اسرائیلی وزارتوں میں امریکی ری فیول طیاروں پر سخت تنازعات

اسرائیلی وزارتوں میں امریکی ری فیول طیاروں پر سخت تنازعات

اسرائیلی وزارتِ ٹرانسپورٹ اور وزارتِ دفاع کے درمیان امریکی ری فیولنگ طیاروں کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے وزارتِ دفاع سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی طیاروں کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں، کیونکہ بن گوریون ایئرپورٹ پر پارکنگ اور آپریشنل دباؤ بڑھ رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکا ایران کشیدگی میں اضافے کے بعد امریکا نے مزید 4 ری فیولنگ طیارے اسرائیل بھیجے تھے، تاہم اسرائیلی وزیرِ ٹرانسپورٹ نے مزید امریکی ری فیولنگ طیاروں کی لینڈنگ روک دی۔امریکی ری فیولنگ طیاروں کو مبینہ طور پر ایرانی حملوں سے بچانے کے لیے اسرائیل منتقل کیا گیا تھا۔ یہ طیارے جنگی طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کرتے ہیں، جس سے طیارے طویل فاصلے تک کارروائیاں انجام دینے کے قابل ہوتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق جون میں امریکا ایران کشیدگی میں کمی کے بعد ان ری فیولنگ طیاروں کی واپسی شروع کر دی گئی تھی۔

دوسری جانب اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ پر مسافر طیاروں کے لیے پارکنگ کی قلت کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ ایئرپورٹ حکام نے خبردار کیا ہے کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بڑے آپریشنل بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق تل ابیب ایئرپورٹ پر پارکنگ کی کمی کے باعث جولائی کے اختتام تک تقریباً 50 ہزار مسافروں کے ٹکٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ 23 جولائی سے روزانہ تقریباً 10 پروازیں منسوخ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔