ویب ڈیسک:امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ مسائل جنوبی ایشیا میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
پاک بھارت جنگ کا خدشہ اور امریکی کردار:
ٹیمی بروس نے انکشاف کیا کہ پاکستان اور بھارت کبھی بھی مکمل جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے، تاہم امریکا کی سفارتی کوششوں سے حالات کو قابو میں لایا گیا اور جنگ ٹالی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا عمل جاری ہے۔
دیرینہ تنازعات اور خطے کا امن:
ترجمان نے کہا کہ پاک بھارت جنگ بندی سے طویل مدتی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوئی ہے، اور یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق جنوبی ایشیا کے برعکس بعض دیگر خطوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، مگر پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی کوششیں جاری ہیں۔
عالمی معاملات پر امریکی مؤقف:
ٹیمی بروس نے واشنگٹن میں اسرائیلی سفارتی اہلکاروں کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں متاثرہ افراد تک امداد کی رسائی امریکی ترجیح ہے اور امریکا امدادی سرگرمیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
ایران کے ساتھ مذاکرات:
ترجمان کے مطابق ایران کے ساتھ پانچویں دور کے مذاکرات جاری ہیں اور اس عمل میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
نتیجہ:
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن پاکستان اور بھارت کے درمیان امن عمل میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، اور خطے میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دیرینہ مسائل کا حل ناگزیر قرار دے رہا ہے۔