وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ کمیٹی نے وزارتوں میں اسامیوں کی تعداد میں 30 فیصد کمی کرنے کی سفارش کی ہے، جس کا مقصد قومی خزانے میں بچت لانا اور حکومتی اداروں کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔
اس کمیٹی کی سفارشات وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، وزارت تجارت، وزارت ہاؤسنگ و ورکس اور وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے متعلق اداروں کو متاثر کرتی ہیں۔اعلامیے کے مطابق، وزارتوں کے مختلف اداروں کو مکمل طور پر بند کرنے یا ضم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اور وزارتوں کے سیکریٹریٹ میں اسٹاف کی تعداد میں 30 فیصد تک کمی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں قومی خزانے میں 42.1 ارب روپے کی بچت کی توقع کی جارہی ہے۔کابینہ کے اراکین نے ان سفارشات پر اپنی آراء پیش کیں، اور وزیراعظم نے کہا کہ کابینہ کی آراء کی روشنی میں وزارتوں کی رائٹ سائزنگ سے متعلق سفارشات اور ان کے عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد دوبارہ وفاقی کابینہ میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔
اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے پارا چنار کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ پاراچنار میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومتیں مل کر ان سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ وزیراعظم کے زیراستعمال ہیلی کاپٹر کو مریضوں کو دوسرے شہر منتقل کرنے کے لیے مختص کیا گیا ہے، اور تمام اسپتالوں میں ضروری ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے۔