افغان مہاجر خواتین کرکٹرز کیلیے عالمی مقابلوں میں شرکت کی راہ ہموار

افغان مہاجر خواتین کرکٹرز کیلیے عالمی مقابلوں میں شرکت کی راہ ہموار

افغان مہاجر خواتین کرکٹرز کے لیے عالمی مقابلوں میں شرکت کی راہ ہموار ہونے لگی ہے، کیونکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پہلی بار انہیں 2030 تک عالمی کوالیفائنگ مقابلوں میں شامل کرنے کے لیے واضح منصوبہ پیش کر دیا ہے۔

اس مقصد کے لیے خصوصی ٹاسک فورس کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے، جو ٹیم کی تربیت، میچز اور ترقیاتی پروگرام کی نگرانی کرے گی۔طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کے حقوق پر عائد پابندیوں کے باعث یہ کھلاڑیاں افغانستان کے نام سے نہیں کھیل سکیں گی، کیونکہ انہیں افغانستان کرکٹ بورڈ کی سرپرستی حاصل نہیں۔ تاہم، انہیں ایک الگ شناخت کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر مسابقتی کرکٹ کھیلنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔زیادہ تر افغان خواتین کرکٹرز 2021 کے بعد آسٹریلیا منتقل ہو گئی تھیں، جبکہ چند برطانیہ اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔انہوں نے پہلی بار 2025 میں میلبرن میں ایک ٹیم کے طور پر میچ کھیلا، جس کے بعد بھارت اور انگلینڈ کے دورے بھی کیے۔آئی سی سی کے تعاون سے ان کھلاڑیوں کو کوچنگ، فزیوتھراپی، تربیتی کیمپس اور بین الاقوامی دوروں سمیت مختلف سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔افغان مہاجر خواتین کرکٹرز نے اس فیصلے کو اپنے مستقبل کے لیے امید افزا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب انہیں عالمی کرکٹ میں جگہ بنانے کا واضح ہدف مل گیا ہے۔