25 کی روٹی ، 35 کا نان ، مہنگائی کا طوفان
نان 35 روپے میں اور سادہ روٹی 25 روپے میں فروخت کرنے سے روکا گیا تو تندور بند کر دینگے ،تین روز کے اندر مذاکرات کیے جائیں:ایسوسی ایشن ،قیمتوں میں یکطرفہ اضافے پر قانونی کارروائی کی جائے گی ، انتظامیہ کا انتباہ
لاہور( کرائم رپورٹر) ملک میں گندم اور آٹے کی قیمت بڑھنے سے روٹی اور نان کی قیمت بھی بڑھنے لگی ہے، تندور مالکان نے سرکاری ریٹ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے روٹی کی قیمت بڑھا دی ہے، متحدہ نان بائی ایسوسی ایشن نے بتایا کہ20 کلو آٹے کی قیمت 2400 روپے اور میدہ 12 ہزار روپے ہونے پر نان 35 روپے میں اور سادہ روٹی 25 روپے میں فروخت کرنے جارہے ہیں، اگر روکا گیا تو احتجاجاً تندور بند کر دیں گے۔نان بائی ایسوسی ایشن کے مطابق مہنگے آٹے، مہنگی ایل پی جی اور شاپر بیگز کے ساتھ سرکاری ریٹ پر 16 روپے کی روٹی نہیں بیچ سکتے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تین روز کے اندر مذاکرات کیے جائیں۔دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایک مرتبہ قیمت بڑھنے کے بعد دوبارہ اضافے کا کوئی جواز نہیں بنتا اور عوام کو سستی روٹی سے محروم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ قیمتوں میں یکطرفہ اضافے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی روٹی کی قیمت میں 5 روپیکا اضافہ کردیا گیا ہے اور 20 روپے والی روٹی 25 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔محکمہ خوراک پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں آٹے کی فراہمی تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور مارکیٹ میں کسی قسم کی قلت نہیں۔ پنجاب کی فلور ملز پرائیویٹ سیکٹر سے گندم خرید کر اسکی گرائنڈنگ کے بعد پنجاب کے تمام اضلاع میں 10کلو کے 258564 اور 20 کلو کے203991 تھیلے سپلائی کیے گئے۔ ترجمان کے مطابق حکومت پنجاب عوام کو معیاری آٹے کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کیلئے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ صوبہ بھر میں فلور ملز معمول کے مطابق فعال ہیں جبکہ مارکیٹ میں آٹے کی دستیابی اور سپلائی چین کو برقرار رکھنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ گندم خریداری کی وجہ سے کسانوں کو گندم کی مناسب قیمت مل رہی ہے اور حکومت کسانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ عوام کو آٹے کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دی جائے گی جبکہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کیخلاف تمام متعلقہ ادارے متحرک ہیں اور قانون کے مطابق کارروائیاں جاری ہیں۔