سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
امریکامیں یہ احساس پیداہورہاہے کہ شاید اسرائیل نے صورتحال کی مکمل تصویرپیش نہیں کی اوراسرائیل نے جنگی حقائق کوخوفناک حدتک بڑھاچڑھاکرپیش کیا۔یہ احساس اعتمادکے ستون اوریقین کے شیشے میں پہلی دراڑہے۔یہ احساس اعتمادکے رشتے کومتاثراور بدگمانی کے بحران کوجنم دے سکتاہے،کیونکہ سیاست میں اعتمادسب سے قیمتی سرمایہ ہوتاہے۔یہ بدگمانی اعتمادکے ستون میں ایک باریک مگرخطرناک دراڑہے۔اسرائیلی میڈیاکی تنقیددراصل ایک خوف کی عکاسی ہے کہ کہیں سفارت کاری عسکری برتری کومحدودنہ کردے۔یہ خوف طاقت کے زوال کانہیں بلکہ اختیارکے تنگ ہونے کاہے۔یہ خوف طاقت کے توازن کے بدلنے کاہے۔یہ وہی خوف ہے جوہرطاقتورریاست کولاحق ہوتاہے جب اس کی آزادی عمل کم ہونے لگے۔اوریہی اندیشہ اختیارکے محدودہونے کاعکاس ہے۔یہ اضطراب اختیارکے دائرے کے سکڑنے کاعکس ہے۔
معاہدے کودھوکہ قراردینااسرائیل کے اسٹریٹیجک خدشات اورعالمی تنہائی کے اندیشے کااظہارہے۔یہ آوازتحفظ کے نام پربے یقینی کی صداہے۔ہابس کے مطابق بقاکاخوف ریاستوں کوہرحدتک لے جاتاہے۔یہ ردعمل بقاکی نفسیات کافطری عکس ہے،یہ خوف بقاکی نفسیات کا فطری اظہارہے اوریہ خوف بقاکے اضطراب سے جنم لیتاہے۔بقاکاخوف ریاستوں کے رویے کومتعین کرتاہے۔ایک اورجگہ تھامس ہابس نے کہاہے انسان کاسب سے بڑاخوف تنہائی ہے،اور ریاست کابھی یہی حال ہے۔
خودانحصاری کی باتیں اسرائیلی قیادت کے ذہنی ارتقاکی نشاندہی کرتی ہیں۔یہ خودی کااعلان ایک نئے دفاعی نظریے کی نشاندہی کرتی ہے،مگرپس منظرمیں انحصارکی حقیقت اورنئے دفاعی بیانیے کی تشکیل بھی موجودہے۔یہ تبدیلی اس بات کاثبوت ہے کہ اسرائیل اپنے مستقبل کیلئے نئی حکمت عملی تیارکررہاہے۔اسرائیل اب شایداس حقیقت کوتسلیم کررہاہے کہ مکمل انحصارکسی ایک طاقت پرممکن نہیں۔یہ اعلانِ خودی ہے مگرپس پردہ انحصارکی گونج باقی ہے۔خودانحصاری کی باتیں ایک نئے دورکی ذہنی تیاری ہیں،مگرپس منظر میں خوف کی دھندبھی ہے۔
داخلی اختلافات کی شدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ بحران صرف خارجہ پالیسی تک محدودنہیں رہا۔سخت گیربیانات داخلی سیاست کی شدت کوظاہرکرتے ہیں جواب داخلی سیاست کاحصہ بن چکاہے۔یہ کشمکش اندراورباہردونوں محاذوں پرجاری ہے۔یہ بحران خارجہ سے زیادہ داخلی نوعیت اختیارکرتاجارہاہے۔یہ صورتحال داخلی استحکام کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔اسرائیلی حکومت کے اندر تقسیم اوراختلافات ایک واضح سیاسی صورت اختیارکرچکیہیں۔یہ تقسیم ریاستی بیانیے کومتاثراوراس کی کمزوری کی علامت ہے۔یہ تقسیم مستقبل میں سیاسی تبدیلیوں کاسبب بن سکتی ہے اوریہ اختلافات سیاسی نظام کی کمزوری کی علامت ہیں اورموجودہ اسرائیلی ریاست کی بقاشدیدترین خطرات سے دوچارہوسکتی ہے۔
جمہوریت میں عوامی رائے سب سے بڑی قوت ہوتی ہے۔یہ خاموش تبدیلی مستقبل کے سیاسی طوفان اورسیاسی زلزلے کاپیش خیمہ ہو سکتی ہے۔یہ عوامی اعتمادکے زوال کی ابتدائی علامت ہے۔عوامی سطح پرحمایت میں کمی ایک اہم اشارہ ہے جوخاموش بغاوت کی پہلی سرگوشی اورآنیوالے سونامی کی پہلی دستک ہے۔جو سیاسی قیادت کیلئے ایک چیلنج بن سکتاہے۔
کیااسرائیل امریکاکے بغیر قائم رہ سکتاہے؟یہ سوال اب محض نظری نہیں بلکہ ایک بنیادی اورعملی حیثیت اختیارکرچکاہے۔یہ سوال بقا کے بنیادی فلسفے کوچیلنج کرتاہے اوریہ سوال وجودی نوعیت اختیارکرچکاہے۔یہ محض سیاست کانہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ممکن نظر نہیں آتا۔اعدادوشمارواضح کرتے ہیں اوراس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اسرائیلی عوام کااعتمادکم اورمتزلزل ہورہاہے۔اعدادخاموش ہوتے ہیں،مگرحقیقت بلندآوازسے بیان کرتے ہیں۔اعدادحقیقت کی خاموش مگرمضبوط گواہی ہیں۔اعدادکبھی جھوٹ نہیں بولتے،مگرکہانیاں ضرورسناتے ہیں۔یہ صورتحال پالیسی سازی پراثر اندازہوسکتی ہے۔
امریکا اوراسرائیل کے تعلقات تاریخی طورپربے مثال اورمضبوط،غیرمعمولی قربت کے حامل رہے ہیں۔یہ تعلقات نظریاتی اور اسٹریٹیجک بنیادوں پرقائم ہیں اورمشترکہ مفادات اورنظریاتی ہم آہنگی پرمبنی ہیں۔یہ رشتہ تاریخ کی گہرائی اورگہرے دھارے میں پیوست ہے جیسا کہ کینیڈی نے کہاتھایہ تعلق محض مفادنہیں،ایک اخلاقی وابستگی اورنظریاتی ہم آہنگی کاآئینہ بھی ہے۔ہردورمیں یہ تعلقات نئی شکل اختیارکرتے رہے ہیں۔یہ رشتہ جامدنہیں بلکہ ارتقائی ہے۔یہ تبدیلیاں عالمی سیاست کے تقاضوں کے مطابق ہوتی رہی ہیں۔یہ رشتہ ارتقا کی مسلسل داستان ہے،جامد نہیں۔یہ تبدیلی وقت کے تقاضوں کے مطابق ہوتی رہی ہے۔تاریخ کادھارابدلتارہا،مگررشتہ قائم رہا۔
کیا یہ تعلق اب کمزوراورمتزلزل ہورہا ہے؟یہ سوال ابھی کھلاہے۔یہ شک کی ایک نئی فکراوریقین کے سمندرمیں ایک نئی لہرہے۔حقیقت یہ ہے کہ مکمل علیحدگی کاتصوربعید ازقیاس ہے ۔یہ تعلق محض چاہت کانہیں بلکہ ضرورت کی زنجیرسے بندھاہواہے۔دونوں ممالک ایک دوسرے کیلئے ناگزیرہیں۔یہ تعلق ضرورت کے رشتے کی بنیادپرقائم ہے۔اسپیشل ریلیشن شپ اب بھی قائم ہے،مگراس کی نوعیت بدل رہی ہے۔یہ تبدیلی وقت کے ساتھ فطری ہے۔یہ تعلق اپنی شکل بدل رہا ہے، ختم نہیں ہورہاجیساکہ فوکونے کہاطاقت ہمیشہ اپنی شکل بدلتی ہے،مگرختم نہیں ہوتی۔یہ تعلق بھی نئے سانچے میں ڈھل کرنئی صورت اختیارکررہاہے۔یہ رشتہ اب جذبات سے زیادہ حساب کاہوچکاہے۔دفاعی تعاون کے تسلسل سے واضح ہوتاہے کہ اختلافات کے باوجود اشتراک باقی ہے۔جواس تعلق کی مضبوطی کاثبوت ہے۔یہ تعاون مستقبل میں بھی جاری رہنے کاامکان ہے۔یہی تعلقات کی اصل بنیاد مضبوطی کا ثبوت اورتعلقات کی اصل روح ہے۔
زمینی حقیقتیں فوری تبدیلی کی نشاندہی نہیں کرتیں،مگرزیرِسطح اندرونی تبدیلیاں جاری ہیں۔یہ سکون طوفان سے پہلے کابھی ہوسکتاہے۔یہ خاموش تبدیلیاں مستقبل کانقشہ اوررخ متعین کریں گی۔متبادل اتحادوں کی تلاش ایک نئے عالمی نظام کی طرف اشارہ ہے۔یہ تبدیلی اہم اورتاریخ کے نئے باب کاآغازاورتاریخ کے نئے باب کی تمہیدہے۔اسلامی دنیا کی نئی صف بندی ایک اہم پیش رفت ہے۔جیسا کہ اقبال نے کہا’’افرادکے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر‘‘۔یہ اتحادمستقبل میں طاقت کانیامرکزاورنئی قوت کوجنم دے سکتاہے۔ یہ اتحاد امکانات سے بھرپورہے۔اقبال کے الفاظ میں’’ ملت کے ساتھ رابطہ استواررکھ‘‘۔ یہ اتحادامکانات کی ایک نئی دنیاکھول سکتاہے۔ایران کے ساتھ ممکنہ مفاہمت خطے میں طاقت کے توازن کوبدل سکتی ہے۔یہ ایک اہم پیش رفت ہے اوریہ تبدیلی امن اورکشمکش دونوں کوجنم دے سکتی ہے۔
نتیجتاً،یہ کہاجاسکتاہے کہ موجودہ کشیدگی وقتی بھی ہوسکتی ہے اورتاریخی بھی،مگراس کے اثرات یقینی طورپرگہرے ہوں گے۔یہ رشتہ بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکاہے۔تاریخ اس کافیصلہ کرے گی۔یہ کہانی ابھی مکمل نہیں،بلکہ ارتقاکے سفرمیں اپنے عروج کی طرف گامزن ہے۔ابن خلدون کے مطابق ریاستیں بھی ارتقاکے مراحل اورانسانوں کی طرح عروج وزوال سے گزرتی ہیں۔یہ رشتہ بھی اسی قانون کے تحت ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہاہے۔
بین الاقوامی سیاست محض واقعات کامجموعہ نہیں بلکہ قوت،مفاد،تاریخ اورفکرکاپیچیدہ امتزاج ہے۔یہ بین الاقوامی سیاست کاایک ایسا پیچیدہ فن ہے جہاں ہرفیصلہ کئی پہلورکھتا ہے۔ یہ سارامنظرنامہ ہمیں یہ سکھاتاہے کہ بین الاقوامی سیاست بھی ایک پیچیدہ شطرنج کی ایسی گنجلک بساط ہے،جہاں ہرچال بظاہرسادہ مگرباطن میں پیچیدہ اورکئی معنی رکھتی ہے۔امریکا اور اسرائیل کاتعلق بھی اسی بساط کا ایک ایسامہرہ ہے جوکبھی وزیربنتاہے اورکبھی پیادہ نظرآتاہے،جوکبھی کمزورتودکھائی دیتاہے مگرکھیل سے خارج نہیں ہوتا۔
آج کی کشیدگی کل کی حکمتِ عملی بن سکتی ہے،او رآج کااختلاف کل کے اتحادکومزیدمضبوط کرسکتاہے۔تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ تعلقات ختم نہیں ہوتے،صرف اپنی شکل بدلتے ہیں۔امریکااوراسرائیل کے تعلقات بھی اسی پیچیدگی کامظہراور اس کی ایک زندہ مثال ہیں۔ یہ تعلق بظاہرمضبوط مگراندرسے متغیرہے،اوریہی اس کی اصل حقیقت ہے۔یہ تعلق وقتی اختلافات کے باوجود اپنی بنیادوں میں مضبوط ہے،مگراس کی نوعیت بدل رہی ہے۔مستقبل میں یہ تبدیلیاں عالمی سیاست کے نقشے کونئی شکل دے سکتی ہیں۔تاہم مستقبل
میں یہ رشتہ نہ ٹوٹے گااورنہ جوں کاتوں رہے گا،بلکہ ایک نئی صورت اختیارکرے گااورشاید یہی تاریخ کاازلی اصول ہے۔