اتحادکے پردے میں اختلاف

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
کیاہم اس دورِآشوب میں ایک نئی سفارتی کشمکش کے ابھرتے نقوش نہیں دیکھ رہے،جہاں الفاظ تلواروں کی طرح چمک رہے ہیں اور بیانات بارودکی طرح پھٹ رہے ہیں؟کیا حالیہ ایام میں امریکااوراسرائیل کے درمیان تلخی کی لہریں ابھرتی ہوئی محسوس نہیں ہورہیں؟ عصرِحاضر کی بین الاقوامی سیاست اگرایک وسیع سمندرہے توامریکااوراسرائیل کے تعلقات اس سمندرکی وہ موج ہیں جوکبھی پرسکون دکھائی دیتی ہے اورکبھی طوفانی۔عصرِ حاضرکی بین الاقوامی سیاست میںجومنظرنامہ ابھررہاہے،اس میں امریکااوراسرائیل کے مابین لفظی کشاکش ایک غیرمعمولی واقعہ محسوس ہوتی ہے۔
الفاظ کی یہ جنگ گویاسفارتی ایوانوں سے نکل کرذرائع ابلاغ کی گلیوں میں گونج رہی ہے،جہاں ہرجملہ ایک تیراورہربیان ایک تلواربن چکاہے۔یہ کشمکش محض الفاظ کی نہیں، مفادات اوربیانات کی آہنی دیواروں کی بازگشت ہے۔بظاہریہ بیانات کی جنگ ہے،مگردرحقیقت یہ مفادات،ترجیحات اورطاقت کے نئے توازن کی علامت ہے۔امریکااور اسرائیل کے درمیان حالیہ تلخ بیانی محض وقتی اشتعال نہیں بلکہ ایک ایسے زیرِزمین لاوے کی علامت ہے جومدتوں سے پک رہاتھا۔ایران کے ساتھ طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے نے اس لاوے کوسطح پرلاکھڑاکیاہے۔یہ محاذآرائی دراصل خاموش اختلافات کی بلندہوتی صداہے۔
حالیہ دنوں میں دونوں کے درمیان جولفظی کشیدگی ابھرکرسامنے آئی ہے،وہ محض بیانات کاتبادلہ نہیں بلکہ ایک ایسے فکری اور اسٹریٹیجک اضطراب کااظہارہے جومدتوں سے اندرہی اندرپرورش پارہاتھا۔اسلام آبادمیں طے پانے والاایران۔امریکامفاہمتی معاہدہ گویا اس خاموش آتش فشاں کے دہانے کوچھیڑنے کاسبب بنااوریوں ایران کے ساتھ اسلام آباد میں طے پانے والے مفاہمتی معاہدے نے اس کشیدگی کونمایاں کردیاہے۔اسرائیل،جوہمیشہ امریکاکاقریبی حلیف رہا،اس پیش رفت کوشک وشبہ کی نگاہ سے دیکھ رہاہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں سفارت کاری اوراسٹریٹیجک مفادات ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔یہ محض الفاظ کی جنگ نہیں بلکہ مفادات کی تہہ میں چھپی ہوئی بے چینی کی ترجمانی ہے۔اسرائیل،جوخودکوامریکی خارجہ پالیسی کاغیراعلانیہ مرکزسمجھتا رہا،اس پیش رفت کواپنے کردارکی تحدیدکے طورپردیکھ رہاہے۔جیسا کہ برٹرینڈرسل نے کہاتھا: طاقت جب تقسیم ہوتی ہے توبے چینی جنم لیتی ہے۔یہ کشمکش دراصل طاقت کیتوازن میں باریک مگرمعنی خیز تبدیلی کااعلان ہے۔
لبنان کی سرزمین پرگرتے بم اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ عالمی معاہدے اکثرمیدانِ عمل میں اپنی تاثیرکھودیتے ہیں۔لبنان کی سرزمین آج بھی دھوئیں میں لپٹی ہوئی ہے ،حالانکہ معاہدوں کی میزپرامن کے چراغ جلائے گئے تھے۔لبنان پراسرائیلی حملوں کاتسلسل اس امرکی واضح دلیل ہے کہ عالمی معاہدے اکثرزمینی حقیقتوں کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں۔اسرائیل کے حملے اس حقیقت کااعلان ہیں کہ عالمی سیاست میں معاہدے اکثرنیتوں سے زیادہ کمزورہوتے ہیں۔یہاں طاقت کاسکہ چلتاہے،تحریری وعدے اکثر بے وزن ہوجاتے ہیں۔اسلام آبادمفاہمتی یادداشت کے بعدبھی لبنان پراسرائیلی حملوں کا تسلسل اس امرکی علامت ہے کہ زمینی حقیقتیں کاغذی معاہدوں کی پابندنہیں ہوتیں۔ یہاں طاقت کاقانون،معاہدے کی سیاہی پرغالب دکھائی دیتاہے۔
ایران کی شرائط میں جنگ بندی شامل تھی،ایران نے جنگ بندی کواپنی شرط بنایا،مگراسرائیل نے اپنے عسکری اہداف اورعسکری تسلسل کوترجیح دی۔یہ صورتحال ہمیں یاددلاتی ہے کہ طاقت کی سیاست میں معاہدے محض ایک عارضی وقفہ ہوتے ہیں،مستقل حل نہیں۔ یہاں طاقت کااصول معاہدوں کی تحریرپرغالب آتادکھائی دیتاہے۔یہ وہی منظرہے جوہمیں تاریخ کے اوراق میں بارہانظرآتاہے کہ جب بندوق بولتی ہے توسفارت خاموش ہوجاتی ہے۔یادرہے کہ سیاست میں اخلاق کاچراغ اکثرطوفانوں میں بجھ جاتاہے۔یہاں بھی معاہدہ ایک تحریرہے،جبکہ طاقت ایک حقیقت۔
امریکی قیادت کے بیانات اوراسرائیلی وزراکی مخالفت ایک ہی رشتے میں دومختلف زاویہ نگاہ کوظاہرکرتی ہے۔اسرائیلی وزراکی مخالفت اورامریکی قیادت کے بیانات ایک داخلی تضاد کوظاہرکرتے ہیں امریکی قیادت اوراسرائیلی وزراکے بیانات ایک دوسرے سے متصادم ہیں،گویاایک ہی سازپرمختلف دھنیں بج رہی ہوں۔گویاامریکی قیادت کے بیانات اوراسرائیلی وزراکی مخالفت گویاایک ہی کشتی کے مسافروں کے درمیان سمت کے اختلاف کااظہارہیں۔ٹرمپ کاسخت لہجہ اوراسرائیلی وزراکی مزاحمت ایک داخلی تناکی عکاسی کرتی ہے۔یہ ہم آہنگی کے پردے میں چھپاہوااختلاف ہے اوریہ اختلاف اتحادکیاندرپوشیدہ اضطراب کی علامت ہے۔
ٹرمپ کاجارحانہ لہجہ اوراسرائیلی قیادت کاردعمل گویاایک ہی رشتے میں مختلف ترجیحات کی کشمکش ہے۔یہ تضادہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتاہے کہ اتحادہمیشہ یکساں سوچ کانام نہیں ہوتا۔یہ اختلاف اتحادکیاندرچھپی ہوئی فکری دراڑوں کااظہارہے۔ایک طرف عالمی استحکام کادعوی،دوسری طرف علاقائی غلبے کاعزمیہ تضادمحض پالیسی کانہیں بلکہ فکرکا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اتحاد اپنی اصل آزمائش سے گزرتے ہیں۔یہ اختلاف دراصل یک جہتی کے تصورمیں دراڑکی پہلی پتلی لکیرہے۔یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ ابھرتاہے کہ آیایہ کشیدگی وقتی ہے یادیرپااورمستقل،یہ کشیدگی وقتی بادل ہے یاکسی طوفان کاپیش خیمہ؟کیایہ اختلاف وقتی ہے یاتاریخ کے کسی نئے موڑکی تمہید؟تاریخ کے آئینے میں دیکھاجائے توہربڑے اتحادکے اندرایسے ہی لمحات آتے رہے ہیں۔وقت ہی اس معمہ کی گرہ کشی کرے گا۔یہ سوال بین الاقوامی مباحث کامرکزبن چکاہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑے اتحاد اکثرایسے ہی بحرانوں سے گزرتے ہیں۔ہیگل کانظریہ جدلیات ہمیں بتاتاہے کہ تضادہی ارتقاکوجنم دیتاہے۔تاریخ تضادات کے تصادم سے آگے بڑھتی ہے۔یہ کشمکش اورتصادم شایدایک نئے عالمی توازن کی بنیادرکھ رہاہے۔شایدیہ لمحہ بھی کسی نئے توازن کی تمہیدہو۔یہ کشمکش ممکنہ طورپرایک نئے عالمی باب کی دیباچہ نویسی ہے۔
امریکاکی امن کی خواہش اوراسرائیل کی عسکری جارحیت ایک ایسے تضادکوجنم دیتی ہے جوتاریخ کے اوراق میں بارہادہرایاگیاہے۔ امریکاایک طرف جنگ کے خاتمے کاخواہاں ہے اورامن کے قیام کی طرف مائل دکھائی دیتاہے،جبکہ اسرائیل اپنی عسکری برتری برقراررکھنے پرمصرہے۔امریکاکی خواہش ہے کہ خطہ ایک نئے سفارتی توازن کی طرف بڑھے،جبکہ اسرائیل طاقت کے ذریعے سفارتی توازن کواپنے لئے خطرہ سمجھتاہے۔یہ تضاددراصل امن بمقابلہ غلبہ کی ازلی کشمکش ہے یہ وہی تضادہے جسے ہنری کسنجر نے طاقت اورسفارت کے درمیان دائمی کشمکش قراردیاتھااوریہ کشمکش عالمی سیاست کی روح ہے۔کسنجرکے الفاظ میں سفارت کاری طاقت کے بغیربے معنی ہے،اورطاقت سفارت کے بغیراندھی۔یہ تضاد عالمی سیاست کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔یہ تضاد پالیسی اورطاقت کے درمیان دائمی کشمکش اورموجودہ بحران کی جڑہے۔
امریکی نائب صدرکے سخت بیانات سفارتی روایت سے ہٹ کرانحراف کااظہار ہیں،جواس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اختلافات اب پردے میں نہیں رہے۔گویاضبط کابند ٹوٹ گیاہو۔یہ بیانات دراصل ایک گہری بے چینی کااظہارہیں جواب سطح پرآچکی ہے جواب تک جواندرہی اندرپل رہی تھی۔یہ الفاظ خاموش اضطراب کی بلندہوتی ہوئی آوازہیں ۔یہ بیانات ہمیں یاددلاتے ہیں کہ یہ الفاظ خاموش اضطراب کی بلندہوتی ہوئی آوازہیں۔یہ بیانات ہمیں یاددلاتے ہیں کہ جب مفادات خطرے میں ہوں تو زبان بھی تلواربن جاتی ہے۔یہ الفاظ دراصل پوشیدہ بے چینی کی آشکارصورت اورخاموش ناراضگی کی بلندآوازہیں۔
ٹرمپ اوروینس کی کھلی تنقیداس امرکی دلیل ہے کہ اختلاف اب پردوں کے پیچھے نہیں رہابالخصوص  ٹرمپ کی کھلی تنقیداس امرکی غمازہے کہ اب اختلافات کوچھپاناممکن نہیں رہا۔ جیساکہ جارج اورویل نے کہا’’سچائی کاانکارخودایک جرم ہے‘‘۔سچائی جب خطرے میں ہوتوخاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔ہرسچائی پہلے مذاق بنتی ہے ،پھرمخالفت، اورآخرکار حقیقت تسلیم کرلی جاتی ہے۔یہ تنقیدخاموشی کے خاتمے کااعلان ہے۔گویایہ بیانات سفارتی پردوں کے چاک ہونے کی علامت ہیں۔یہ شفافیت نہیں بلکہ مجبوری کی بے نقابی ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ اختلافات وقتی ہیں کیونکہ امریکااوراسرائیل کے مفادات گہرائی میں جڑے ہوئے ہیں۔یہ تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ عسکری،معاشی اورنظریاتی سطحوں پراستوار ہے۔یہ رشتہ دریاکی مانندہے ،سطح پرموجیں،مگرگہرائی میں سکون۔یہ تعلقات وقتی ناراضی سے متاثرہوسکتے ہیں مگرٹوٹ نہیں سکتے۔یہ رشتہ وقتی ناراضیوں کے باوجوداپنی بنیادمیں مستحکم ہے۔یہ رشتہ درخت کی جڑوں کی مانندمضبوط ہے،چاہے شاخیں ہلتی رہیں۔درخت ہل سکتاہے،مگر جڑیں آسانی سے نہیں اکھڑتیں۔(جاری ہے)