سیزفائر کے پردے میں عالمی کھیل

سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
اسرائیل،موساداوربھارت کی یہ مشترکہ سرگرمیاں نہ صرف ایران کی خودمختاری بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی کیلئے ایک بڑا خطرہ بنتی جارہی ہیں بلکہ یہ عمل خطے میں پراکسی وار،عدم استحکام اوربین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ایران میں اسرائیلی نیٹ ورک،موسادکی کارروائیاں اوربھارت کاکرداراس بات کاواضح ثبوت ہے کہ یہودوہنودمشترکہ طورپر مسلم دشمنی میں ایک دوسرے کاساتھ دے رہے ہیں اورپاکستان کابیانیہ سچ ثابت ہوگیاہے کہ دنیاکے امن کوسب سے بڑاخطرہ یہود وہنودکاالائنس ہے۔
موجودہ منظرنامے میں اسرائیل نے امریکاکی مکمل حمایت سے ایران کے ایٹمی مراکزکونشانہ بنایالیکن ایران نے جوابی حملے کے ذریعے پہلی باراسرائیل کے اندرحقیقی نقصان پہنچایا ۔ ایران کے میزائل اسرائیلی حدودمیں داخل ہوئے،مضبوط آئرن ڈوم سسٹم نے اکثر حملوں کوروکامگرکئی میزائل اتنے طاقتورتھے کہ فوری اثرات کے باعث کئی اسرائیلی مضبوط چوکیاں متاثرہوئیں۔بعض میزائل تل ابیب کے فوجی ہیڈ کوارٹرزکے نزدیک گرے،جس سے انفراسٹرکچرکوشدیدنقصان پہنچا۔ایران نے مجموعی طورپر550سے زائد بیلسٹک میزائل ،ڈرون اورکروز میزائل داغے جن میں سے متعددتل ابیب،حیفہ،بیئرشبع،اورعسقلان کونشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔ اسرائیل کادفاعی نظام آئرن ڈوم بعض مقامات پرمؤثر ثابت ہوامگرکئی میزائل اس سے بچ نکلے اورانہی میزائل نے تل ابیب کے شمالی سیکٹرمیں فوجی ہدف پربراہِ راست حملے نے جہاں شدید نقصان پہنچایاوہاں حیفہ کی ایک گیس پائپ لائن میں شدید آتشزدگی نے اسرائیل کوخاصہ نقصان پہنچایا۔
یہ واقعہ نہ صرف اسرائیل کے دفاعی غرورکی شکست تھی بلکہ ایران کی جوابی طاقت کاواضح اعلان بھی۔لیکن وہی ہواجس کی توقع تھی۔اسرائیل کابڑھتاہوانقصان اوراس کی بے بسی کو ختم کرنے کیلئے امریکابھی اس جنگ میں کودپڑا۔21جون کوامریکی بی-2 بمبار طیاروں اورٹام ہاک میزائلوں سے ایران کے تین بنیادی ایٹمی مراکز پرحملہ کردیا۔حالیہ برسوں میں پہلی مرتبہ ایران کے ایٹمی تنصیبات پرامریکی حملوں کے بعدایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کونشانہ بنایا۔ ایران کی طرف سے نہ صرف مزاحمت بلکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پرحملے گویاایک نیامرحلہ تھا۔جب ایران کی جوابی کارروائیوں نے امریکی اڈوں کوہدف بنایااورخطے میں جنگ کے بادل گہرے ہونے لگے،توبراہِ راست تصادم کی صورت میں جیسے ہی امریکاکواپنے مفادات کے چکناچورہونے کاخدشہ ہوا،فوراسیزفائرکااعلان کردیاگیا۔یقینااس سیزفائرمیں خطے کے ممالک کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ 24 جون2025کوٹرمپ کی ثالثی میں،ایران اوراسرائیل نے12روزہ تباہ کن جھڑپوں کے بعدجنگ بندی منظور کی۔دونوں ممالک نے عہدکیاکہ پہلے ایران میزائل حملے روکے گا  اور12گھنٹوں کے بعداسرائیل بھی کارروائیاں بندکرے گا۔
سیزفائرکااعلان دراصل ایک سیاسی تدبیرتھی تاکہ خطے میں امریکی مفادات مزیدخطرے میں نہ پڑیں۔یہ سیزفائراس حقیقت کابھی مظہرہے کہ طاقت کااستعمال ہمیشہ حل نہیں ہوتا۔ جیسے ہی امریکاکواپنے مفادات کے چکناچورہونے کاخدشہ ہوا،فوراسیزفائرکااعلان کردیاگیاجیسے کوئی آگ لگانے کے بعدپانی کے بہانے سے خودکومعصوم ثابت کرناچاہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق،امریکانے ایران کے ایٹمی مراکزپرحملے کیلئے اپنے اسٹریٹیجک بی ٹوسٹیلتھ بمبارکومشن پربھیجاتومبینہ طورپریہ طیارے بھارت کے راستے یابھارتی فضائی حدودوسہولیات استعمال کرکے ایران تک پہنچے۔اس خبرپرتاحال بھارت کی طرف سے کوئی باضابطہ تردیدسامنے نہیں آئی،جوسفارتی اصطلاح میں اکثر’’خاموش تائید‘‘سمجھی جاتی ہے۔اگریہ اطلاع درست ہے، توبھارت نے امریکااوراسرائیل کے ساتھ مل کرایران کے خلاف ایک عملی جنگی کارروائی میں سہولت فراہم کی ہے۔
اگربھارت واقعی امریکی حملے میں شریک رہایاسہولت کاربنا،تویہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ساتھ ہی،اس بھارتی کردارکے علاقائی سلامتی پرخطرناک اثرات مرتب ہوئے ہیں،یہ جنوبی ایشیااورمشرقِ وسطی میں ایک نئے سردجنگی ماحول اور اعتمادکے ٹوٹنے کی نشاندہی کرتاہے۔اسرائیل،امریکااوربھارت کے مابین یہ خفیہ تعلقات اور کارروائیاں صرف سیکیورٹی یاعسکری مسئلہ نہیں،بلکہ عالمی سفارت کاری،مسلم دنیاکے اتحاد،اورخطے کے توازن کیلئے ایک شدیدخطرہ بن چکے ہیں۔
یادرکھیں جب نظریہ مضبوط ہو،جب قوم فکری بلوغت رکھتی ہو،تواس کاسامناصرف بموں سے نہیں،فہم وفراست سے بھی نہیں کیاجا سکتا۔سیزفائرکے بعداب اسرائیل کے جانی ومالی نقصانات کی تفصیلات بھی سامنے آرہی ہیں۔تقریبا172مقامات پرایرانی میزائلوں نے نقصان پہنچایاجس میں28سے زائدہلاکتیں ہوئیں اورہزاروں افرادکے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔نصف درجن سے زائدعمارات شدیدمتاثرہوئیں،اسپتال زخمیوں سے بھرگئے،اورمتعددمسافروشہری محفوظ ٹھکانوں میں منتقل ہوئے۔ایرانی میزائل نے19جون کو بیئرشبہ کے ہسپتال اور"سوروکامیڈیکل سینٹر"کونشانہ بنایا،جس میں50سے زائدزخمی ہوئے ہیں۔ اسپتال کے ایک حصے میں کیمیائی موادکااخراج بھی ہوامگرمریضوں کی بروقت منتقلی نے بڑے انسانی جانی نقصان کوروکا ۔
ایران اسرائیل جنگ کے دوران ایک مرتبہ پھرعالمی ردعمل میں واضح دوغلے پیمانے اور ڈھٹائی کو ایک مرتبہ پھردیکھاگیا۔امریکا نے اسرائیل کی پشت پناہی جاری رکھی،اپنے بحری بیڑے مشرقِ وسطی روانہ کیے اورایران پرمزیدپابندیوں کی دھمکی دی۔یورپ نے امن کی اپیل کی مگراسرائیل کے ایٹمی حملے پرخاموشی اختیارکی لیکن اس کے برعکس چین وروس نے ایران کی مزاحمت کوجائز قراردیااوراسرائیل پرتنقیدکی جبکہ اقوام متحدہ نے صرف’’تحمل‘‘اور’’مذاکرات‘‘کی اپیل پر اکتفا کیا،کوئی عملی قدم نہیں اٹھایااورہمیشہ کی طرح امریکا اور
مغرب کی لونڈی کے کردارکوبرقراررکھا۔دوسری طرف امریکی ویورپی میڈیااسرائیل کے مظالم کویاتوچھپاتاہے یاان کاجوازگھڑتاہے۔اسرائیل کاظلم،فلسطینیوں کی شہادت،اور انسانی حقوق کی پامالی،عالمی میڈیامیں محض عددبن کررہ جاتے ہیں۔ایران کامقف،مزاحمت کی آواز،عالمی میڈیامیں دبائی جاتی ہے یا مسخ کرکے پیش کی جاتی ہے۔
انقلاب صرف جغرافیہ نہیں، نظریہ بھی ہوتاہے۔آج ایران تنہانہیں،بلکہ وہ ایک بیانیہ ہے؛ایک انکارہے؛ایک مزاحمت ہے۔اگرچہ وہ معاشی وعسکری لحاظ سے امریکایااسرائیل کاہم پلہ نہیں،لیکن عزمِ صمیم، فکری خودداری اوردینی بالادستی کاعلم بلندکیے ہوئے ہے۔ جس انقلاب نے ایک سفارت خانے سے امریکاکونکالا،وہ آج بھی عالمی طاقتوں کواپنی زبان پرقابورکھنے پرمجبورکررہاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کاپلڑاہمیشہ اس کے پاس نہیں رہتاجوتلواررکھتاہے،بلکہ اس کے پاس ہوتاہے جونظریہ رکھتاہے۔
یہ جنگ باروداورمیزائلوں کی نہیں،افکار،تہذیب اورنظریات کی جنگ ہے۔ایک طرف سامراجی سرمایہ دارانہ نظام ہے جوطاقت کوحق کی بنیادسمجھتاہے،دوسری طرف مزاحمت کی وہ شعوری طاقت جوامام خمینی،مودودی،اورحسن نصراللہ جیسے مفکرین کی رہنمائی میں آزادی کانعرہ بن چکی ہے۔
ایران وامریکاو اسرائیل کی یہ کشمکش صرف تیل،اسلحے یاایٹمی پلانٹس کی جنگ نہیںیہ فکروتہذیب کی جنگ ہے۔یہ جنگ استقلال اوراستعمارکے درمیان ہے۔ایران واسرائیل و امریکا کی یہ کشمکش محض فوجی یامعاشی نہیں،بلکہ تہذیبی اورفکری جنگ ہے۔ایک طرف مغرب کی سیکولر،لبرل اورسرمایہ دارانہ سوچ ہے،اوردوسری طرف ایران کاانقلابی،اسلامی،اور مزاحمتی بیانیہ۔ایران آج بھی معاشی مشکلات،عالمی تنہائی،اورعسکری دباکے باوجوداپنے نظریاتی مؤقف پرڈٹاہواہے۔
ایران اپنی معاشی،عسکری اورسیاسی تنہائی کے باوجودجس فکری صلابت اورنظریاتی عزم کامظاہرہ کررہاہے،وہ محض حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک تہذیبی نظریہ ہیایک ایسانظریہ جو صداقت ،استقامت اورآزادی کے نام پروقت کی سپرپاورزکوللکاررہاہے۔اگر حق وباطل کی کشمکش نہ ہو،توتاریخ کاوجودبے معنی ہوجائے۔یادرہے کہ قومیں زندہ رہتی ہیں عقیدے سے، اسلحے سے نہیں۔یہ دنیاایک دارالامتحان ہے،یہاں ظاہری کامیابی اصل کامیابی نہیںاصل کامیابی نظریہ کی بقاء ہے۔