سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
عالمی برادری اورمغربی طاقتیں اگرواقعی ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤکی مخالف ہیں توپھراسرائیل کومسلسل نظراندازکرناایک کھلی منافقت ہے۔اسرائیل ایک ایساملک ہے جوخودکئی دہائیوں سے ایٹمی ہتھیاررکھتاہے،لیکن نہ تووہ کسی عالمی معاہدے کاپابندہے اورنہ ہی اس پرکوئی بین الاقوامی دباؤڈالاجاتاہے۔یہ دوہرامعیارعالمی نظام انصاف اوراقوامِ متحدہ کی غیرجانبداری پرکئی سوالات اٹھاتا ہے۔
ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اٹھنے والے خدشات کومحض سیکیورٹی یاامن کے زاویے سے نہیں،بلکہ ایک بڑے جیو پولیٹیکل کھیل کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکاکی پالیسیوں،سابقہ تجربات اوراسرائیل جیسے ممالک کودی گئی چھوٹ سے یہ واضح ہوتاہے کہ ایران کے خلاف بیانیہ محض سچائی پرمبنی نہیں بلکہ مخصوص مفادات کی ترجمانی بھی کرتاہے۔عالمی برادری کوچاہیے کہ وہ کسی بھی فیصلے سے قبل مکمل شواہد اورغیرجانبدارانہ رویہ اپنائے،تاکہ ماضی کی غلطیاں دوبارہ نہ دہرائی جائیں لیکن یوں محسوس ہوتاہے کہ امریکی جن وہ طوطاہے جس کی گردن اسرائیل کی گرفت میں ہے اوراسرائیل اپنی من مانی شرائط پرامریکا کی طرح ساری دنیاکویرغمال بنانے کا تہیہ کرچکاہے۔
لیکن دوسری طرف انہی وجوہات کامقابلہ کرنے کیلئے خطے میں امریکی کرائے کے سپاہی اسرائیلی جارحیت کامقابلہ کرنے کیلئے ایران نے اپنی نظریاتی بقااوردفاعی حکمتِ عملی کوعملی جامہ پہنانے کیلئے ایک وسیع البنیادپراکسی نیٹ ورک تشکیل دیا۔شام میں بشارالاسدکی حکومت کواپنی پشتیبانی میں لیا،لبنان میں حزب اللہ کوایک منظم مزاحمتی قوت بنایا،اوریمن میں حوثیوں کوعسکری امداد ونظریاتی تربیت فراہم کی۔یہ تمام قوتیں ایران کے دفاعی فلسفے میں’’آگے کی خندقیں‘‘تھیں،جن کے ذریعے ایران نے اسرائیلی خطرے کواپنے جغرافیائی حدود سے دوررکھا۔
حزب اللہ نے2006میں جب اسرائیل کے خلاف جرات مندانہ مزاحمت کی،تواسرائیلی فوج کوتاریخی شرمندگی کاسامناکرناپڑا۔اسرائیل جوچنددنوں میں بیروت پہنچنے کے خواب دیکھ رہاتھا،جنوبی لبنان سے بھی پسپائی پرمجبورہوگیا۔اس ذلت آمیزشکست کے بعداسرائیل نے میدانِ جنگ سے ہٹ کرخفیہ محاذپرچالیں چلیں۔موسادکوفعال کیاگیا، جس نے مختلف سازشوں اورسائبرحملوں کے ذریعے ان تمام پراکسیزکوکمزورکرنے کی منظم کوششیں کیں۔حزب اللہ کے مواصلاتی نظام(واکی ٹاکی نیٹ ورک)میں مداخلت کی گئی،قیادت کے اندردراڑیں ڈالنے کی کوشش کی گئی،اوریمن میں حوثیوں پرمسلسل فضائی حملے جاری رکھے گئے۔
شام میں بشارالاسدکی حکومت،اگرچہ رسمی طورپرقائم رہی،لیکن کئی علاقوں میں اس کی رٹ ختم ہوگئی۔روس کی مددسے وہ جزوی طورپراقتدارسنبھال سکالیکن اسرائیلی حملے وقتافوقتا جاری رہے۔بالآخروہ وقت بھی آن پہنچااورشامی فوج کے ہاتھوں ان لاکھوں شہدا کی قربانیاں کامیاب ہوئیں اوربشارالاسدکوفرارہوکرروس کی گودمیں پناہ لینی پڑگئی اورنئی شامی حکومت کے خوف سے ایرانی پراکسیزکووہاں سے فرارہوناپڑالیکن اس کابراہ راست فائدہ بھی اسرائیل کوپہنچااورسعودی ولی عہدنے ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے دوران نئے شامی سربراہ کی ملاقات کااہتمام کیاجس کے بعدشام سے امریکی پابندیاں ہٹانے کااعلان ہوگیاہے۔گویااسرائیل کو شام کی طرف سے بھی مکمل تحفظ حاصل ہوگیاہے۔
اسی دوران اسرائیل نے غزہ پرجوقیامت ڈھائی،جوآج بھی جاری ہے،وہ تاریخِ انسانی کے المیہ بابوں میں رقم ہوچکی ہے۔غزہ کوکھنڈر میں تبدیل کردیاگیا۔60ہزارسے زائد فلسطینی شہیدکیے گئے،جن میں اکثریت عورتوں، بچوں اوربزرگوں کی تھی۔لاکھوں زخمی اوربے گھرہوگئے۔امریکا،اسرائیل کاعسکری اورسفارتی محافظ بن کراس ظلم پرخاموشی سے نہیں بلکہ کھلے عام پشت پناہی کرتارہا۔ظلم کی انتہاتویہ ہے کہ امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کی قراردادکو18مرتبہ مستردکرتے ہوئے اسرائیل کو کھلے عام بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام کالائسنس دئیے رکھا جبکہ یہی ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں جنگوں کو بندکرانے کانعرہ لگارہاتھا۔
ابھی غزہ میں امریکی پشت پناہی سے اسرائیلی ظلم وستم کاطوفان تھمانہیں تھا کہ اسرائیل نے13جون2025کو’’آپریشن رائزنگ لائن‘‘کے تحت ایران کے متعددایٹمی وعسکری تنصیبات کونشانہ بنایا،جن میں فورڈو،نطنزاوراصفہان کے مقامات شامل تھے ۔بعدازاں اسرائیل نے ایران کے سائنسدانوں کونشانہ بنایا،سائبرحملے کیے،اورپھرکھلم کھلا حملوں کی طرف آ گیا۔ ایران نے 14 جون 2025 کے صحرائی وقت میں مسلسل 12 دنوں تک اسرائیلی علاقوں پر میزائل و ڈرون حملے کیے ۔ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کو نسل نے انہیں قابلِ عبرت طاقت کا مظاہرہ قرار دیا۔
یہاں یہ بتانابھی انتہائی ضروری ہے کہ اس خطے میں یہودوہنودکاخفیہ اشتراک بھی اپنے منظرعام پرآچکاہے۔اسرائیل اورایران کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں پرمحیط ہے،تاہم حالیہ برسوں میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موسادکی ایران کے اندربڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے اس تنازعے کوایک نئے،خفیہ محاذپرمنتقل کردیاہے۔ایران اوراسرائیل کے مابین طویل عرصے سے جاری کشیدگی حالیہ برسوں میں خفیہ جنگ کی شکل اختیارکرچکی ہے۔اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موسادنے ایران کے اندرمتعدد کارروائیاں کیں،جن میں اہم ایرانی شخصیات کونشانہ بنایاگیا۔
ایران کے سیکیورٹی اداروں کے مطابق،اسرائیل نے ایران پرممکنہ حملے سے قبل ایک فعال خفیہ نیٹ ورک قائم کیا،جس کی منصوبہ بندی اورنگرانی موسادنے کی،جومقامی وغیر ملکی افرادپرمشتمل تھا۔اس نیٹ ورک نے حساس سیکیورٹی مقامات،ایرانی فوج،ایٹمی سائنسدانوں اورسیاسی شخصیات کونشانہ بنایا۔موسادکے اسی نیٹ ورک کے ذریعے غزہ کی مزاحمتی تنظیم حماس کے اعلی رہنما اسمعیل ہنیہ کوایک حملے میں شہیدکیاگیا۔اس حملے کی اہم بات یہ تھی کہ اسمعیل ہنیہ ایرانی صدرکی حلف برداری کی تقریب میں خصوصی مہمان کے طورپرمدعو تھے،جوواضح کرتاہے کہ یہ ایک پیغام اوراشتعال انگیزی پرمبنی کارروائی تھی۔یہ حملہ اسرائیل کا ایک واضح پیغام تھاکہ وہ ایران کے علاقائی اتحادیوں کوبھی بخشنے والانہیں۔اس نیٹ ورک نے ماضی میں ایران کے کئی ممتاز جوہری سائنسدانوں اورفوجی قیادت کوبھی نشانہ بنایا۔خاص طورپرڈاکٹرمحسن فخری زادہ اورپاسدارانِ انقلاب کے اعلی افسران شامل ہیں کی ہلاکت ایک بڑادھچکہ تصورکی گئی،جوایران کے ایٹمی پروگرام کی علامت مانے جاتے تھے۔
ایرانی انٹیلی جنس اداروں نے بعد ازاں ایک بڑی کارروائی میں موساد سے وابستہ اس نیٹ ورک کوبے نقاب کیا۔گرفتارافراد میں نہ صرف ایرانی بلکہ افغانی اوربھارتی شہری بھی شامل تھے،جوایران میں موساد کیلئے کام کررہے تھے۔تحقیقات کے بعد کئی افغانیوں کوسزائے موت سنائی گئی جبکہ دیگرافرادکے خلاف کاروائی جاری ہے۔یہ عدالتی کارروائی ایران کے اس مؤقف کوتقویت دیتی ہے کہ اس کی سرزمین پرغیر ملکی خفیہ نیٹ ورکس فعال رہے ہیں۔
اس سے قبل قطرمیں بھی بھارتی بحریہ کے افسران اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔قطری عدالت نے ان افراد کوسزائے موت سنائی،تاہم بعدمیں مودی کی ذاتی منت سماجت اورسفارتی مداخلت کے بعدیہ سزامعاف کردی گئی۔یہ واقعہ بین الاقوامی سطح پربھارت کی ساکھ پرسوالیہ نشان بن گیااوریہ ثابت ہواکہ یہودوہنودکے مشترکہ ایجنڈے کے تحت مودی باقاعدہ طورپر اسرائیل کے خفیہ مقاصد کیلئے مکمل معاونت فراہم کررہاہے۔یہ تمام واقعات نہ صرف ایران اوراسرائیل کے تعلقات کومزیدکشیدہ کررہے ہیں،بلکہ خطے میں افغانستان اوربھارت کے تعلقات پربھی سوالات اٹھارہے ہیں،کیونکہ ان ممالک کے شہری موسادکیلئے کام کرتے ہوئے پائے گئے۔ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت،بالخصوص مودی حکومت،اسرائیل کے قریبی اتحادی کے طورپر خطے میں ایک فعال کردار اداکررہی ہے۔خفیہ تعاون،معلومات کی ترسیل اوردشمن ممالک میں جاسوسی جیسے اقدامات اسرائیلی ایجنڈے کاحصہ بن چکے ہیں جن میں بھارتی ریاستی ادارے براہ راست شامل ہوچکے ہیں۔(جاری ہے)