سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
کبھی کبھی قوموں کے افق پرایک ایسالمحہ ظہورپذیرہوتاہے جوصدیاں اپنے دامن میں سمیٹے ہوتاہے۔بیسویں صدی کانصفِ دوم ایک ایسادورتھاجب سردجنگ کی بساط پرمشرقِ وسطیٰ کی بساط بچھائی جاچکی تھی۔تہران،جوکبھی صفویوں کے عہدمیں فقہی اورفکری اجتہادکامرکزتھا،اب سرمایہ دارانہ سیاست کاسفارتی اڈہ بن چکاتھا۔اس خطے میں امریکانے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ایران کو، بالخصوص شاہ محمدرضاپہلوی کو،ایک’’علاقائی تھانیدار‘‘کے طورپرچناگیاکیونکہ خطے میں شاہِ ایران سے بہترکوئی بھی امریکی سامراج کیلئے بہترسایہ دارشجرموجودنہیں تھا۔امریکا،جواپنے تیل کے ذخائرکیلئے مشرقِ وسطیٰ کوناگزیرسمجھتاتھا،ایران کی جغرافیائی اورعسکری اہمیت کونظراندازنہ کرسکا۔
یہ وہ زمانہ تھاجب ایران،دجلہ وفرات کے کنارے نہیں بلکہ واشنگٹن کی چوکھٹ پرسجدہ ریزتھا۔شاہِ ایران،نہ صرف خطے کاسیاسی چوکیداربلکہ امریکاکے اسٹرٹیجک منصوبوں کا ’’پروٹوکول افسر‘‘بن چکاتھا۔شاہ ایران،جدیدیت کے لبادے میں مغرب کی تہذیبی غلامی کاپیکرتھا۔اس کے دورمیں ایران میں مغربی اقدارکاسیلاب امڈآیا۔ایران واسرائیل کے مابین تعلقات محض رسمی نہیں،بلکہ گہرے دفاعی، انٹیلیجنس اوراقتصادی مفادات کے حامل تھے۔موساداورساواک کے گٹھ جوڑنے خطے کے مزاحمتی عناصرکوکچلنے میں کوئی کسرنہ چھوڑی ۔ایران،اسرائیل کوتیل فراہم کرتاتھا،اوراسرائیل،ایران کوٹیکنالوجی وتربیت دیتاتھا۔اس وقت ایران اوراسرائیل کے تعلقات،محض سفارتی تکلفات نہیں تھے بلکہ معاشی،دفاعی اورانٹیلیجنس سطح پرگہرے مراسم کادوسرانام تھے۔ موساداورساواک(ایران کی خفیہ ایجنسی)ایک ہی میزپربیٹھ کرمشرقِ وسطیٰ کے خفیہ نقشے کھینچاکرتے تھے ۔تل ابیب اورتہران کے درمیان محض فضائی مسافت نہ تھی بلکہ فکری ہم آہنگی اورسامراجی قربت کاپل بھی استوارتھا۔
1979کاسال ایران کی تاریخ میں ایک ایساموڑثابت ہواجس نے صرف ایک حکومت کاتختہ الٹانہیں بلکہ ایک عالمی فکرکوچیلنج کیا۔ امام خمینی کی قیادت میں برپاہونے والے اسلامی انقلاب نے مغربی استعمارکے ایوانوں میں زلزلہ برپاکردیا۔شاہ کوملک چھوڑناپڑا۔امام خمینی کی قیادت میں ایران میں اسلامی انقلاب کاسورج طلوع ہوا،توصرف ایک حکومت کاتختہ نہیں الٹا،بلکہ ایک عالمی نظام کوفکری چیلنج دے دیاگیا۔
وہ ایران جوکبھی امریکی عزائم کامحورتھا،اب ایران کی فضامیں ایک انقلابی نعرہ گونجا،’’نہ مشرقی،نہ مغربی،صرف اسلامی‘‘کے نعرے کاعلمبرداربن گیا۔اس ایک جملے نے امریکی مفادات کے ایوانوں میں زلزلہ برپاکردیا۔ایران،جوکل تک سی آئی اے کاخفیہ اڈہ تھا،اب سامراج دشمنوں کاقبلہ بن چکاتھا۔امام خمینی نے واضح طورپراسرائیل کو’’سرطانی غدہ‘‘ قراردیا،اورامریکاکو’’شیطانِ اکبر‘‘۔یہ صرف سیاسی نعرے نہ تھے،بلکہ تہذیبی اورفکری بیانات تھے جومغربی استعمارکے مقابل ایک نئی اسلامی شناخت کااعلان تھے۔شاہ کوملک چھوڑناپڑا۔
لیکن امریکا کویہ ایرانی انقلاب ہضم نہیں ہورہاتھا۔اس نے توایساسوچابھی نہیں تھاکہ خطے کی برتری اس طرح خاک میں مل جائے گی ۔ ایرانی انقلاب کاسیلاب امریکی چار دہائیوں سے ایران پراس کی مضبوط گرفت اوراس کے مستقبل کے ارادوں کوبہالے جائے گی، اورتیل سے مالا مال مشرقِ وسطی جیسے خطے میں اس کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی۔امریکانے اس انقلاب کوناکام بنانے کیلئے ایران میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سازشیں شروع کردیں جس کے جواب میں ایرانی طلبانے تہران میں امریکی سفارتکاروں کو اغوا کرکے امریکا کے سامنے اپنے کئی ایسے مطالبات رکھ دیئے جس سے وہ ایران میں امریکی ریشہ دوانیوں کوختم کرے۔
امریکی سفارت خانے پرقبضہ اورسفارت کاروں کااغواایک ایساواقعہ تھاجس نے عالمی سفارتی روایات کوجھنجھوڑکررکھ دیا۔ایرانی طلباکے ہاتھوں امریکی سفارت خانے پرقبضہ اور سفارت کاروں کااغوا،گویاواشنگٹن کے چہرے پرطمانچہ تھا۔ایرانی طلبانے اس اقدام کوامریکاکی سازشوں کے ردِعمل کے طورپرپیش کیا۔واشنگٹن میں کہرام مچ گیا،عالمی برادری میں ایران کے خلاف نفرت ابھرنے لگی۔
دنیا حیران،سامراج پریشان،صدرجمی کارٹرنے’’آپریشن ایگل کلا‘‘نامی ایک خفیہ فوجی کارروائی کی گئی،جس کامقصدمغویوں کورہا کراناتھامگریہ کارروائی نہ صرف ناکام ہوئی بلکہ امریکی عسکری وقارکاکفن بھی بن گئی۔ریت کے طوفان میں پھنسے امریکی طیارے ،ٹوٹے پرزے اورجلتی ہوئی لاشیںسب انقلاب کے طغیانی بیانیے کے گواہ بن گئے۔صحرائے طبس کی ریت نے امریکی عسکری غرورکونگل لیا۔اس واقعے نے امریکی وقارپرکاری ضرب لگائی اورایران کی انقلابی قیادت کیلئے ایک فکری فتح کاپیغام لایا۔جس رات امریکی آپریشن ناکام ہوا،اس سے اگلی شام امام خمینی نے اپنی قوم کے ہرفردکویہ پیغام دیاکہ وہ اپنے گھرکی چھت پرکھڑاہو کرتین دفعہ’’اللہ اکبر‘‘اللہ کی کبریائی کااعلان کرے کہ اس نے اپنی دوطاقتوں’’اندھیرے اورآندھی‘‘سے امریکاکے تکبرکوپاش پاش کر دیا۔
امریکانے بالآخر اپنے اتحادیوں کواپنے ساتھ شامل کرکے ایران پراقتصادی پابندیاں لگاکراستعماری انتقام کے ہتھیارکے طورپر استعمال کرناشروع کردیا۔امریکااوراس کے اتحادیوں نے ایران پرمعاشی پابندیوں کاجال بچھادیا۔اقتصادی قینچی کے استعمال سے ایران کا مالیاتی نظام عالمی منڈیوں سے کاٹ دیاگیا،تیل کی برآمدات محدودکردی گئیں،اور روزمرہ ضروریات کی اشیاتک کی درآمد پرقدغن لگادی گئی۔ سمندری راستوں پرپہرے بٹھادیئے گئے کہ ایران پرزندگی تنگ کردی جائے۔یہ سب کچھ اس امیدپرکیاگیاکہ ایرانی عوام انقلابی حکومت سے مایوس ہوکربغاوت کریں گے،مگرایران نے استقامت کامظاہرہ کیا۔ اگرچہ معیشت کوشدیدنقصان پہنچالیکن ایرانی عوام نے انقلاب کے نظریاتی دامن کونہ چھوڑا۔امریکانے اپنی ناکامیوں کاانتقام ایران کی معیشت سے لیا۔معاشی پابندیوں کاایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔ایران کوعالمی مالیاتی اداروں سے الگ کردیاگیا،تیل کی برآمدات محدود کی گئیں،اورہراس دروازے پر قفل ڈال دیاگیاجہاں سے ایران کوسانس آتی تھی۔امریکانے صرف پابندیاں ہی نہیں لگائیں،بلکہ اپنے کرائے کے سپاہی اسرائیل کوخطے میں اپناآلہ کاربناکرایران پردباؤمیں اضافہ بھی کیا۔
ایران کے ایٹمی پروگرام کومغربی دنیا،بالخصوص اسرائیل اورامریکانے ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا۔’’ایران ایٹمی ہتھیاربنارہاہے جودنیاکیلئے ایک شدیدخطرہ ہے‘‘اس بیانیے کو ہتھیار بناکرعالمی رائے عامہ کوایران کے خلاف ہموارکیاگیاحالانکہ ایران بارہادعویٰ کرتارہا کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے،تاہم اسرائیل نے اسے اپنی بقاکیلئے خطرہ قراردیا۔ایران کاایٹمی پروگرام،جسے وہ قومی خودمختاری کاپرچم کہتاہے،اسرائیل نے اسے اپنے لئے اورمشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک کیلئے ایک خطرہ قراردے دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل،جوخودایٹمی طاقت ہے مگرعالمی قوانین سے مبرا،ایران کے کسی بھی ممکنہ ایٹمی صلاحیت کوبرداشت نہیں کرسکتا۔چنانچہ امریکااوراس کے اتحادیوں نے خاموشی سے اسرائیلی حملوں کی پشت پناہی شروع کردی۔
ایران کاایٹمی پروگرام ایک عرصے سے عالمی سطح پربحث ومباحثے کاموضوع بناہواہے۔مغربی طاقتیں،بالخصوص امریکا،اس خدشے کااظہارکرتاآ رہاہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاربنانے کی کوشش کررہاہے،جوکہ دنیاکے امن وسلامتی کیلئے ایک بڑاخطرہ ہوسکتا ہے۔تاہم،اس بیانیے کے پیچھے کارفرماسیاسی عزائم اورتاریخی حقائق کاجائزہ لیاجائے توواضح ہوتاہے کہ یہ محض ایک یکطرفہ مؤقف نہیں بلکہ ایک گہری بین الاقوامی سیاسی چال کاحصہ ہے۔امریکانے’’ایران ایٹمی ہتھیاربنارہاہے‘‘جیسے بیانیے کوبطورہتھیاراستعمال کرتے ہوئے عالمی رائے عامہ کوایران کے خلاف ہموار کرنے کی منظم کوشش کی ہے۔یہ بیانیہ مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمزپربارباردہرایاجاتاہے،جس کامقصدایران پردباؤبڑھانا،پابندیاں عائد کرنااوراس کے علاقائی اثرورسوخ کومحدودکرناہے۔
یہ صورتحال ماضی میں عراق کے خلاف اپنائی گئی امریکی پالیسی سے خاصی مماثلت رکھتی ہے۔2003میں امریکااوراس کے اتحادیوں نے دعویٰ کیاکہ صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیارموجودہیں۔ان الزامات کوجوازبناکرعراق پر حملہ کیاگیا،جس کے نتیجے میں لاکھوں افرادجاں بحق اورپوراملک تباہ ہوگیا۔بعدازاں،خود مریکا نے اقوامِ متحدہ میں اعتراف کیاکہ ایسے ہتھیاروں کاکوئی ثبوت نہیں ملا۔برطانیہ کے اس وقت کے وزیرِاعظم ٹونی بلیئرنے بھی اپنی غلطی کااعتراف کیااور اسے ایک ’’قومی سانحہ ‘‘ قراردیا۔(جاری ہے)