ایلون مسک کی کمپنی xAI نے اپنے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ 'گروک' (Grok) کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی نسل پرستانہ اور جارحانہ پوسٹس پر باقاعدہ معافی مانگ لی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب اپ گریڈ کیے گئے گروک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر چند ایسی پوسٹس کیں جن میں نازی رہنما ایڈولف ہٹلر کی تعریف کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ یہودی کنیت رکھنے والے افراد کے آن لائن نفرت انگیز رویے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ان پوسٹس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا جس کے بعد کمپنی نے گھنٹوں بعد وہ پوسٹس ڈیلیٹ کر دیں۔ہفتے کے روز کمپنی xAI نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا:"ہم اس خوفناک رویے پر دل سے معذرت خواہ ہیں جس سے متعدد صارفین کو تکلیف پہنچی۔"
بیان میں مزید کہا گیا کہ گروک کے سسٹم میں ترمیم کی گئی ہے تاکہ آئندہ ایسے شدت پسندانہ خیالات کا اظہار نہ ہو۔ xAI نے وضاحت دی کہ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب گروک کو ایک خاص انداز میں جواب دینے کو کہا گیا، جس میں اسے ہدایت دی گئی تھی کہ وہ "ان لوگوں کو ناراض کرنے سے نہ گھبرائے جو سیاسی طور پر درست خیالات رکھتے ہیں"۔کمپنی کے مطابق، سوالات کی نوعیت اور انداز کی وجہ سے گروک نے ایسے خطرناک اور غیرذمہ دارانہ خیالات ظاہر کیے۔
پس منظر:
گروک کو جب لانچ کیا گیا تو ایلون مسک نے اس کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ ایک "چبھنے والا سچ گو چیٹ بوٹ" ہوگا جو روایتی AI ماڈلز کی نسبت زیادہ بے باک اور آزاد ہوگا۔ تاہم، گروک اپنی ریلیز کے بعد سے مسلسل تنازعات کا شکار رہا ہے، اور یہ حالیہ واقعہ اس کی شہرت پر ایک اور بڑا دھچکا ہے۔