گھوٹکی میں 3خواتین تیزریلے سے دریامیں ڈوب گئیں ، فلڈ ایمرجنسی نافذ
لاہور،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ملک بھر میں مون سون کی شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث 3خواتین جاں بحق ہوگئیں جبکہ کئی بستیاں زیر آب آگئیں ،تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث تمام سپل ویز تیسری بار کھول دئیے گئے۔تفصیلات کے مطابق بارشوں کے باعث دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ،گھوٹکی کے مقام پر تین خواتین تیز ریلے کی زد میں آکر دریا میں ڈوب گئیں ،مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت تینوں خواتین کی لاشیں دریا سے نکال لیں۔ تونسہ میں سیلابی پانی سے کئی بستیاں زیر آب آگئیں اورلوگ محصورہو گئے جبکہ راجن پور کے کچے کے علاقوں سے لوگ نقل مکانی کررہے ہیں۔۔ ہری پور میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کی آمد کے پیش نظر تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے لگا،گزشتہ روز تربیلا ڈیم کے تمام سپل وے تیسری بار کھول دیئے گئے جبکہ مساجد میں مقامی آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کے اعلانات کئے گئے، سپل وے سے پانی کے اخراج کیلئے14 فٹ گیٹ کھولے گئے ہیں۔تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار 526 اعشاریہ 08 فٹ ہے، پانی کی آمد 2 لاکھ 70 ہزار کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 50 ہزار سے 2 لاکھ 60 ہزار کیوسک ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج اسلام آباد سمیت پنجاب، خیبر پختونخوا ، بلو چستان ،سندھ ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں چند مقامات پر تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے راولپنڈی میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے 15 جولائی سے 31 اگست تک سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ کا کہنا ہے کہ شہر میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور انتظامی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے7 فلڈ ریلیف کیمپس بھی قائم کر دئیے ہیں جس میں خوراک، پانی، دوا، رہائش، سکیورٹی کی سہولت ہے۔