نشاندہی کے باوجود فنڈ ز کی عدم دستیابی کے باعث منصوبہ تاخیر کاشکا
لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہور میں بارش کے بعد چالیس سے زائد مقامات پر بارشی پانی جمع ہونا معمول بن چکا ہے۔ واسا نے ان مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں نکاسی آب کا نظام م ئوثر نہ ہونے کے باعث ہر بارش میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ٹیپا نے بارشی پانی کے نکاس کے مستقل حل کے لیے سڑکوں کی جیومیٹری بہتر بنانے کی تجویز دی اور اس مقصد کے لیے تین سو ملین روپے کے فنڈز مانگے، مگر فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث منصوبہ تا حال شروع نہیں ہو سکا۔ شادمان گول چکر، جیل روڈ انڈر پاس، ریلوے سٹیشن اور سندر داس روڈ جیسے مقامات پر جیومیٹری کی تبدیلی کا منصوبہ کاغذوں تک محدود ہے۔ اسی طرح کینٹ ڈرین برج اور ڈیوس روڈ جنکشن پر بھی پانی جمع ہونا معمول ہے۔ نظام آباد چوک اور مغلپورہ چوک پونڈنگ پوائنٹس کی فہرست میں نمایاں ہیں۔ملتان روڈ پر سکیم موڑ، یتیم خانہ، بجلی گھر، ملتان چونگی، کریم بلاک اور رضا بلاک سمیت متعدد مقامات پر بھی بارشی پانی جمع ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔ نظریہ پاکستان چوک، ایوب چوک، شوکت خانم فلائی اوور، اللہ ہو چوک اور بھلہ چوک کی جیومیٹری بہتر بنانے کا فیصلہ بھی تاحال نہ ہو سکا۔پیکو موڑ، لاہور برج، فیروز پور روڈ گجومتہ، مولانا شوکت علی روڈ اور ہمدرد چوک کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ہر بارش میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ فردوس مارکیٹ، حفیظ سنٹر، نصیر آباد اور ایرانی قونصلیٹ کے سامنے سے بھی بارشی پانی مشینری کے ذریعے ہی نکالا جائے گا۔