شکرگڑھ میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے خاتون اور تین بچیاں شدید زخمی

شکرگڑھ میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے خاتون اور تین بچیاں شدید زخمی

شکرگڑھ کے نواحی گاؤں چھنی دولو میں گیپکو (واپڈا) کی غفلت کے باعث بجلی کی تاریں انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گئیں، جہاں کرنٹ لگنے سے ایک خاتون اور تین کمسن بچیاں جھلس گئیں۔

 حادثے کے بعد گیپکو افسران واقعے سے لاتعلقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاعلم نکلے۔

 افسوسناک واقعے کی تفصیلات:
حادثہ سب ڈویژن نمبر 2 کے گاؤں چھنی دولو میں پیش آیا
رضیہ نامی خاتون اور تین کمسن بچیاں کرنٹ کی زد میں آ گئیں
8 سالہ بچی فجر شدید جھلس گئی، جس کا علاج جناح اسپتال لاہور میں جاری ہے
 اہل خانہ کا مؤقف:
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ:"ہمارے مکان کی چھت کے بالکل اوپر سے 11 کے وی کی تاریں گزر رہی ہیں، جنہیں ہٹوانے کے لیے متعدد بار شکایات درج کروائی گئیں، مگر گیپکو اہلکاروں اور افسران نے کوئی اقدام نہیں کیا۔"
 گیپکو حکام کی بے خبری:
واقعے کے بعد جب میڈیا نے رابطہ کیا تو گیپکو افسران نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا، جس سے ادارے کی لاپرواہی اور انتظامی بدانتظامی مزید عیاں ہو گئی۔

 علاقہ مکینوں کا احتجاج:
مقامی افراد نے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ:

یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ادارے کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے
بجلی کی تاریں گنجان آبادیوں کے اوپر سے گزرنا ایک کھلا خطرہ ہے
اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ بھی جان لیوا حادثات ہو سکتے ہیں
 مطالبہ:
علاقہ مکینوں اور متاثرہ خاندان نے حکومت اور واپڈا حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ:

11 کے وی کی خطرناک لائنیں فوری ہٹائی جائیں
ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے
جھلسنے والی بچی کے علاج اور مالی امداد کو یقینی بنایا جائے