غزہ میں اسرائیلی حملے جاری:114فلسطینی شہید، جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار

شہداء میںجنوبی رفح میں قائم امریکی مرکز کے باہر خوراک کے منتظر 34 افراد بھی شامل، جبالیا میں دو رہائشی عمارتوں پر حملے سے 15شہادتیں ہوئیں
 حماس نے اسرائیل کی مجوزہ انخلاء کی نقشہ بندی کو مسترد کر دیا، امداد کی فراہمی اور جنگ کے خاتمے کی ضمانتوں سے متعلق معاملات بھی رکاوٹ ہیں،ذرائع
غزہ(آئی این پی ) اسرائیلی افواج کی غزہ بھر میں شدید حملوں میں مزید 114 فلسطینی شہید ہو گئے، ان میں جنوبی رفح میں قائم امریکی مرکز کے باہر خوراک کے منتظر 34 افراد بھی شامل ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل کے تازہ حملوں میں غزہ شہر میں بمباری سے 14 افراد شہید ہوئے ، جن میں 4 ایک ہی گھر کے تھے، جبالیا میں دو رہائشی عمارتوں پر حملے سے 15شہادتیں ہوئیں، شاطی کیمپ میں 7 افراد شہید ہوئے، بیت حانون میں شمال مشرقی علاقے پر 50 بم گرائے گئے۔اسرائیلی فوج نے گزشتہ 48 گھنٹوں میں غزہ پر 250 سے زائد حملے کیے جبکہ خوراک اور طبی امداد کی رسائی پر بھی سخت پابندیاں جاری رکھیں۔غزہ کی حکومت کے میڈیا آفس کے مطابق اب تک 67بچے غذائی قلت سے جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 650,000 بچے آئندہ ہفتوں میں شدید غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ تین دنوں میں درجنوں اموات خوراک اور طبی سہولیات کی قلت کے باعث ہو چکی ہیں، یہ صورتحال ایک بے مثال انسانی المیے کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق غزہ میں عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ اسرائیلی افواج نے کسی وارننگ کے بغیر رفح کے علاقے الشکوش میں واقع امدادی مرکز کے باہر کھڑے لوگوں پر فائرنگ کر دی۔ادھر قطر میں جاری جنگ بندی مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہو گئے ہیں، فلسطینی ذرائع کے مطابق حماس نے اسرائیل کی مجوزہ انخلاء کی نقشہ بندی کو مسترد کر دیا ہے، کیوں کہ اس میں غزہ کا 40 فیصد علاقہ، بشمول رفح اور شمالی و مشرقی حصے، اسرائیلی قبضے میں رکھے گئے ہیں۔اسرائیلی ذرائع نے کہا کہ حماس چاہتی ہے کہ اسرائیل وہاں تک پیچھے ہٹ جائے جہاں اس نے مارچ سے قبل پچھلی جنگ بندی کے وقت کنٹرول سنبھالا تھا۔فلسطینی ذرائع نے کہا کہ امداد کی فراہمی اور جنگ کے خاتمے کی ضمانتوں سے متعلق معاملات بھی رکاوٹ ہیں، یہ بحران مزید امریکی مداخلت سے حل کیا جا سکتا ہے۔