غزہ میں 60روزہ جنگ بندی کے دوران مستقل جنگ بندی پر بات ہوگی: اسرائیلی وزیراعظم

 حماس کو غزہ میں رہنے کی اجازت نہیں دوں گا، شرائط پوری نہ ہوئیں تو فوجی طاقت سے عمل درآمد کرایا جائیگا، نیتن یاہو 
تل ابیب (آئی این پی )اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں مجوزہ 60 روزہ جنگ بندی کے دوران مستقل جنگ بندی کے لیے بات چیت کی جائے گی، حماس کو غزہ کی پٹی میں رہنے کی اجازت نہیں دوں گا ۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ اگر اسرائیل کی شرائط اس مدت میں پوری نہ ہوئیں تو ان پر فوجی طاقت سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے لیے حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنا، غزہ پر حکمرانی سے دستبرداری اور فوجی صلاحیتوں کا خاتمہ بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔ اگر 60دن کی جنگ بندی کے دوران ہماری شرائط پوری نہ ہوئیں، تو ہم طاقت کے ذریعے انہیں پورا کرائیں گے۔ نیتن یاہو نے واشنگٹن میں زیر حراست افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہم غزہ میں جنگ بندی کے 60دنوں کے بعد جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، اسرائیل غزہ کی پٹی میں جنگ کو ختم کرنے اور حماس کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں شامل 60 دن کی جنگ بندی کے بعد تمام زیر حراست افراد کو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نے کہاکہ میں حماس کو پٹی میں رہنے کی اجازت نہیں دوں گا، ایسا نہیں ہو گا، میں اس مسئلے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا، لیکن میں اس بات کو یقینی بنائوں گا کہ ہر زیر حراست شخص مل جائے ۔