پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کسی سیاسی عمل میں نہیں آنا چاہتی: طلال چودھری

 پی ٹی آئی والے دن میں بڑھکیں مارتے ہیں اور شام میں پچھلے دروازوں سے منتیں کرتے ہیں،میڈیا سے گفتگو 
فیصل آباد (آئی این پی ) وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کسی سیاسی عمل میں نہیں آنا چاہتی، پی ٹی آئی کو مذاکرات کرنے ہیں تو سپیکر کی میز پر لوٹنا ہو گا۔فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی والے دن میں بڑھکیں مارتے ہیں اور شام میں پچھلے دروازوں سے منتیں کرتے ہیں، کسی این آر او پر بات نہیں ہو سکتی ہے، سیاسی جماعتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر متحد ہو کر سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا حکومت بھی امن و امان کے قیام کے لیے پنجاب کی طرح ادارے بنائے، 90فیصد واقعات کو ان کارروائیوں سے روک لیا جاتا ، پہلے تھانوں چیک پوسٹوں پر حملہ کرتے تھے اب ہسپتالوں، نہتے مسافروں کو نشانہ بناتے ہیں۔وزیرِ مملکت نے کہا کہ علی امین گنڈا پور اور ارکان اسمبلی لاہور آئے شہدا ء کے گھر بھی چلے جاتے، کیا دہشت گردوں کے ساتھ نرم رویہ رکھنے پر شہیدوں کے گھر جانے سے گریز کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی پراکسیز بلوچستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہی ہیں، وفاقی حکومت بلوچستان حکومت کے ساتھ آن بورڈ ہے ، مرنے والے پنجابی نہیں پاکستانی ہیں، مارنے والے فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد ہیں، دہشت گردوں کے تانے بانے بیرونِ ملک سے ملتے ہیں، دشمن چاہتا ہے کہ پنجابیوں اور بلوچوں کو آپس میں لڑائیں۔طلال چودھری نے کہا کہ پنجاب نے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے عوام کو ان کا حصہ دیا، بلوچستان سے نکلنے والی گیس کا 70 فیصد بلوچستان خود استعمال کرتا ہے، پنجاب کے لوگوں نے بلوچستان کو پانی بھی دیا، پیسہ بھی دیا، پاکستان اس قابل ہے کہ فتنہ الہندوستان کو شکست دے سکے۔