امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت مصر، لبنان اور اردن میں سرگرم مسلم برادر تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے مصر اور اردن کی مسلم برادر تنظیموں کو “Specially Designated Global Terrorist (SDGT)” کے طور پر شامل کیا۔امریکی محکمہ خارجہ نے لبنان کی تنظیم “الجماعۃ الاسلامیہ” کو Foreign Terrorist Organization (FTO) کی فہرست میں شامل کیا۔
وجوہات:
ان تنظیموں پر فلسطینی تنظیم حماس کی حمایت اور اسرائیلی مفادات کے خلاف سرگرمیوں کا الزام ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، یہ تنظیمیں بظاہر فلاحی اور سیاسی کام کرتی ہیں مگر پس پردہ دہشت گرد گروہوں کی معاونت کرتی ہیں۔
اثرات:
ان تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنا غیر قانونی ہوگا۔ان کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے۔FTO قرار دی گئی تنظیموں کے ارکان کے امریکا میں داخلے پر پابندی ہوگی۔
تنظیموں کا ردعمل:
مصر کی مسلم برادر تنظیم کے قائم مقام سربراہ صلاح عبدالحق نے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کے دباؤ کے تحت کیا گیا اور کوئی ٹھوس شواہد نہیں۔لبنانی تنظیم الجماعۃ الاسلامیہ نے کہا کہ امریکی فیصلہ لبنان میں کوئی قانونی اثر نہیں رکھتا اور یہ اسرائیل کے مفادات کی حفاظت کرتا ہے۔
تاریخی پس منظر:
مسلم برادر تنظیم 1928ء میں مصر میں قائم ہوئی اور مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں اس کی شاخیں موجود ہیں۔لبنان میں الجماعۃ الاسلامیہ پارلیمان میں نمائندگی رکھتی ہے۔اردن میں سیاسی جماعت اسلامی ایکشن فرنٹ نے 2024ء کے انتخابات میں 31 نشستیں حاصل کی تھیں۔مصر میں 2013ء سے مسلم برادر تنظیم پر پابندی ہے اور حکومت نے اس کے خلاف سخت کارروائیاں کی ہیں۔
علاقائی اثرات:
مصر نے امریکی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے اہم اقدام قرار دیا۔امریکا میں ٹیکساس اور فلوریڈا نے بھی مسلم سول رائٹس تنظیم CAIR کو مسلم برادر تنظیم کے ساتھ دہشت گرد قرار دے دیا۔