اوپن اسکائی پالیسی کی وجہ سے قومی ایئرلائن کو تاریخی نقصان ہوا: شازیہ مری

اوپن اسکائی پالیسی کی وجہ سے قومی ایئرلائن کو تاریخی نقصان ہوا: شازیہ مری

شازیہ مری نے کہا کہ اوپن اسکائی پالیسی کی وجہ سے قومی ایئرلائن کو تاریخی نقصان ہوا۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کی کہ پرائیویٹائزیشن کے بجائے اداروں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے ذریعے چلانا چاہیے، جس کا ماڈل سندھ میں کامیابی سے چل رہا ہے۔
شازیہ مری کے مطابق قومی ایئرلائن کی نجکاری میں ملازمین اور اثاثوں کا تحفظ نہیں ہوا، اور اس کے نتیجے میں گزشتہ 4 سال میں تقریباً 600 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔انہوں نے غلام سرور کے بیان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ قومی ایئرلائن کے نقصانات پر احتساب ہونا چاہیے۔شازیہ مری نے کہا کہ قومی ایئرلائن کی عمارتیں اربوں کی قیمت کی ہیں، جبکہ نجکاری کے نام پر اسے دس ارب روپے میں فروخت کیا گیا، منافع عوام کو نہیں پہنچا بلکہ نقصان حکومت نے برداشت کیا۔
اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی

شازیہ مری نے کہا کہ اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درخت کاٹے جا رہے ہیں، جس سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بڑھ رہے ہیں اور پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ان کے مطابق تقریباً 30 ہزار درخت کاٹے جا چکے ہیں، اور اس معاملے پر شفافیت اور جوابدہی نہیں ہو رہی۔
توانائی اور بجلی کی صورتحال

شازیہ مری نے کہا کہ ملک میں بجلی اور گیس کی شدید لوڈشیڈنگ جاری ہے، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں، جبکہ کراچی میں بھی گیس کی قلت ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں پیدا ہونے والی گیس کے حقوق مقامی لوگوں کے لیے محفوظ رکھے جائیں، اور وفاق امپورٹڈ گیس کے بجائے مقامی وسائل کو ترجیح دے۔
وفاقی حکومت اور قانون سازی پر تنقید

شازیہ مری نے کہا کہ صدر مملکت کے دستخط کے بغیر جاری کردہ آرڈیننس قانونی طور پر کریمنل اقدام ہے، اور وفاقی وزیر قانون کو اپنی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن قانون سازی میں اپنا کام نہیں کر رہی اور صرف شور و شرابہ کرنے پر مصروف ہے۔