قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیر کے روز اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری کی تقریر کے دوران ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جو ہاتھا پائی تک پہنچنے ہی والا تھا کہ دیگر ارکان نے بیچ بچاؤ کرا دیا۔
پس منظر:
شازیہ مری نے اپنی تقریر میں کہا:"کراچی کسی کی جاگیر نہیں، یہ سندھ کا شہر ہے اور سندھ کا ہی رہے گا، ہم کراچی کو سندھ سے الگ نہیں کرنے دیں گے۔"ان کے اس بیان پر ایم کیو ایم کی رکن آسیہ اسحاق نے سخت ردعمل دیا اور پیپلز پارٹی کے ارکان کی جانب بڑھنے لگیں۔ اسی دوران آصفہ بھٹو، سحر کامران اور دیگر ارکان بیچ میں آ گئے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچایا۔ایم کیو ایم کے رکن جاوید حنیف نے الزام لگایا:"پیپلز پارٹی نے کراچی کو یتیم کیا ہوا ہے، یہ لوگ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔"
شازیہ مری کی اہم نکات پر گفتگو:
ایران پر اسرائیلی حملے اور فلسطینی عوام پر مظالم کی مذمت کی۔بھارت کی جارحیت پر تشویش کا اظہار۔کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ نے پاکستان کے حق میں جو جذبات ظاہر کیے وہ قابل تحسین ہیں۔بتایا کہ وزیراعظم کے فیصلے سے بلاول بھٹو کی قیادت میں وفد عالمی دورے پر گیا، جس نے پاکستان کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کیا۔کہا:"بلاول بھٹو نے دنیا میں پاکستان کا مؤقف کامیابی سے رکھا، اور یہ ہم سب کی کامیابی ہے۔"
معاشی صورتحال پر تنقید:
شازیہ مری نے کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں، حکومت نے بجٹ میں کم سے کم اجرت کا کوئی اعلان نہیں کیا۔تنخواہوں میں اضافہ صرف پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا تھا۔
بجٹ پر اتحادی حکومت خود بھی منقسم ہے۔سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس کی سخت مخالفت کی:"یہ ٹیکس ناقابل قبول ہے، پیپلز پارٹی اس کی حمایت نہیں کرے گی۔"