سانگھڑ میں جونیجو برادری کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 3 افراد کی ہلاکت اور 19 کے زخمی ہونے کے واقعے کے حوالے سے رکنِ قومی اسمبلی شازیہ مری اور ایس ایس پی سانگھڑ غلام نبی کیریو نے دھرنے میں پہنچ کر متاثرین سے اظہارِ یک جہتی کیا۔
اس موقع پر شازیہ مری نے کہا کہ "کلمہ پڑھ کر کہتی ہوں اس واقعے سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے" اور اس کے بعد وہ ورثاء کے ساتھ دھرنے میں بیٹھ گئیں۔دھرنے میں شریک افراد نے شازیہ مری اور ایس ایس پی سے سخت سوالات کیے، جس پر ایس ایس پی نے وعدہ کیا کہ ایف آئی آر درج کروا دی جائے گی۔ شازیہ مری نے اس موقع پر کہا کہ اگر یہ پولیس کی کارکردگی ہے تو وزیرِ داخلہ کو نوٹس لینا چاہیے اور وزیرِ اعلیٰ سے اپیل کی کہ سانگھڑ کو ایسے افسران دیے جائیں جو امن کے قیام میں مدد دیں۔اس واقعے کے بارے میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تصادم کے بعد 3 مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، تاہم اس وقت تک مذکورہ مقدمہ درج نہیں کیا جا سکا۔
یہ واقعہ 2 روز قبل سانگھڑ کے نزدیک چوٹیاری تھانے کی حدود میں جانی جونیجو گاؤں میں مویشیوں کے کھیتوں میں گھس جانے کے تنازع پر پیش آیا، جس کے نتیجے میں جونیجو قبیلے کے دو گروپوں کے درمیان جھگڑا ہوا، جس میں 3 افراد کو گولیاں لگ کر جان سے ہاتھ دھونا پڑے جبکہ 19 افراد زخمی ہو گئے جن میں 3 خواتین بھی شامل ہیں۔مسلح افراد کی ہوائی فائرنگ کے باعث شہر کے مختلف کاروباری مراکز بھی بند ہو گئے تھے، اور علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی تھی۔