ارشد شریف قتل کیس کی سماعت کے دوران لندن میں قتل اہم کیو ایم رہنما عمران فاروق کے کیس کا تذکرہ

ارشد شریف قتل کیس کی سماعت کے دوران لندن میں قتل اہم کیو ایم رہنما عمران فاروق کے کیس کا تذکرہ

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت کے دوران لندن میں قتل ہونے والے اہم کیو ایم رہنما عمران فاروق کے کیس کا بھی تذکرہ ہوا۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ تفتیش کا عمل کافی سست ہے اور عدالت کسی پر الزام عائد نہیں کرنا چاہتی۔ وکیل بیوہ ارشد شریف نے بتایا کہ سو موٹو کی بنیاد پر کمیشن بنایا گیا اور تفتیش ابھی جاری ہے۔عدالت نے کینیا میں کیس کی پیش رفت کے بارے میں استفسار کیا، جس پر وکیل بیوہ نے کہا کہ کینیا کی عدالت نے ان کی استدعا منظور کر کے تفتیش کا حکم دیا، تاہم ابھی تک اس میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے تعاون کی درخواست بھی کی۔ایڈیشنل اٹارنی عامر رحمان نے بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، اور شروع میں کینیا حکومت نے تفتیش میں مدد سے انکار کیا تھا۔ گزشتہ سال ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان ایم ایل اے معاہدہ ہوا، جس کے تحت کینیا حکومت کی اجازت سے جائے وقوعہ پر جا کر مزید تفتیش کی جائے گی۔

سماعت کے دوران عمران فاروق قتل کیس کا حوالہ بھی آیا، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ انگلینڈ میں ہونے والے قتل میں پاکستان اور انگلینڈ پولیس نے مشترکہ تفتیش کی تھی۔ ایڈیشنل اٹارنی نے کہا کہ ارشد شریف اور عمران فاروق قتل کیس مختلف نوعیت کے ہیں، اور تفتیش مکمل ہونے پر دو ملزمان کے خلاف چالان جمع کرا دیا گیا ہے۔ملزمان اس وقت کینیا میں موجود ہیں، اور ان کے بلیک وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔ جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا انہیں صرف انٹرپول کے ذریعے گرفتار کیا جا سکتا ہے، جس پر ایڈیشنل اٹارنی نے تصدیق کی۔ایڈیشنل اٹارنی نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم نے خود کینیا کے صدر سے فون پر رابطہ کیا ہے اور پوری کوشش ہے کہ جلد سے جلد تفتیش مکمل کی جائے۔