غلام مرتضیٰ باجوہ
امریکی سپریم کورٹ آئندہ بدھ کو ایک ایسے مقدمے کی سماعت کرنے جا رہی ہے جو نہ صرف امریکہ کے آئینی توازن بلکہ عالمی معیشت کے مستقبل پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔’’لرننگ ریسورسز بنام ڈونلڈ ٹرمپ‘‘ نامی یہ کیس بظاہر ایک قانونی تنازع ہے کہ آیا صدرِ مملکت کو‘‘انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ’’(IEEPA) کے تحت ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے محصولات (Tariffs) عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں، مگر درحقیقت یہ مقدمہ اس سے کہیں زیادہ گہرا اور وسیع تر مفہوم رکھتا ہے۔
یہ مقدمہ اس بحث کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے کہ امریکہ میں اختیارات کی تقسیم کا اصل دائرہ کہاں تک ہے۔ یعنی کیا صدر تنہا فیصلے کر سکتا ہے، یا پھر تجارتی اور مالی پالیسی جیسے اہم امور پر کانگریس کی منظوری لازمی ہے۔امریکہ کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں ایگزیکٹو اختیارات کی توسیع یا تحدید ایک بنیادی آئینی بحث رہی ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورِ اقتدار میں بین الاقوامی تجارت پر بے مثال محصولات عائد کیے، جنہیں ’’امریکہ فرسٹ‘‘پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا۔ ان محصولات نے چین، یورپ، اور یہاں تک کہ امریکی اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی متاثر کیا۔صدر ٹرمپ کے حامیوں کا موقف ہے کہ عالمی معاشی خطرات اور غیر متوازن تجارتی تعلقات کے پیش نظر ایگزیکٹو آرڈرز ایک ضروری قدم تھے۔ دوسری طرف ناقدین کے مطابق صدر نے کانگریس کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔اب یہ مقدمہ امریکی سپریم کورٹ کے سامنے اس سوال کے ساتھ آیا ہے کہ کیا ’’ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ‘‘کے تحت صدر کو اتنا وسیع اختیار دیا جا سکتا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے نام پر عالمی تجارت کی سمت ہی بدل دے؟۔
یہ مقدمہ صرف امریکہ کے آئینی ڈھانچے کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی تجارت کے نظام کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ دور کے محصولات نے عالمی سپلائی چین، برآمدی توازن اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر نمایاں اثر ڈالا۔اگر سپریم کورٹ صدر کو یہ اختیار برقرار رکھنے کی اجازت دیتی ہے تو آئندہ ہر امریکی صدر کے لیے کسی بھی ملک کے خلاف معاشی اقدامات اٹھانا آسان ہو جائے گا۔ اس صورت میں عالمی سطح پر‘‘تجارتی غیر یقینی’’میں اضافہ ہوگا، جس سے نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ کرنسی مارکیٹس پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔اس کے برعکس، اگر عدالت ایگزیکٹو اختیارات کو محدود کرتی ہے تو کانگریس کا کردار مضبوط ہوگا، اور امریکہ کی اقتصادی پالیسی زیادہ پیش بینی اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھے گی۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ مقدمہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ امریکہ کے تجارتی فیصلے براہِ راست عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر امریکی صدر کو وسیع تر اختیارات برقرار رکھنے کی اجازت ملتی ہے تو امریکی پالیسیوں میں اچانک تبدیلیاں — جیسے محصولات میں اضافہ یا درآمدی بندش، چھوٹے اور درمیانے درجے کی معیشتوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔پاکستان کی معیشت برآمدی بنیاد پر استوار ہے۔ ایسے میں عالمی سطح پر تجارتی غیر یقینی صورتِ حال پاکستان سمیت خطے کے دوسرے ممالک کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔ تاہم، اگر سپریم کورٹ انتظامی اختیارات کو محدود کرتی ہے تو عالمی تجارتی ماحول میں استحکام آنے کا امکان ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے گا۔
قانونی پہلو:’’میجر کویسچنز ڈاکٹرائن‘‘اور’’یونٹری ایگزیکٹو تھیوری‘‘اس مقدمے میں دو اہم آئینی نظریات زیرِ بحث آئیں گے۔پہلا:میجر کویسچنز ڈاکٹرائن جس کے مطابق اگر کسی انتظامی فیصلے کے بڑے سیاسی یا معاشی اثرات ہوں تو اس کی منظوری کانگریس سے ضروری ہے۔دوسرا:یونٹری ایگزیکٹو تھیوری، جو یہ تصور دیتی ہے کہ صدر انتظامیہ کے تمام اداروں پر بلاشرکتِ غیرے اختیار رکھتا ہے۔عدالت کا فیصلہ ان دونوں نظریات میں سے کس کو تقویت دیتا ہے، اس پر امریکہ کے آئینی مستقبل کا دارومدار ہوگا۔
ییل یونیورسٹی کی معروف ماہرِ اقتصادیات ناؤمی لامورو، یونیورسٹی آف ایریزونا کے قانون دان اورن تامیر، اور ٹفٹس یونیورسٹی کے ماہرِ بین الاقوامی معیشت مائیکل کلائن کے مطابق یہ مقدمہ ’’اداریاتی ریاست‘‘ کے وجود کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔ اگر عدالت صدر کے اختیارات محدود کرتی ہے تو امریکی بیوروکریسی اور کانگریس کے درمیان طاقت کا نیا توازن قائم ہوگا۔اسی پس منظر میں جرنلسٹس ریسورس اور اکونوفیکٹ نے ایک ویبینار کا اہتمام کیا ہے، جس میں ماہرین اس مقدمے کے آئینی، معاشی، اور تاریخی پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے۔ اس گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ میں‘‘صدارتی طاقت’’کا سوال اب محض داخلی بحث نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر بھی دلچسپی کا موضوع بن چکا ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے حالیہ برسوں میں انتظامی اختیارات سے متعلق کئی اہم فیصلے دیے ہیں، جن میں وفاقی اداروں کے دائرہ کار کو محدود کرنے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ اگر یہی رجحان اس کیس میں برقرار رہا تو صدر کے لیے یکطرفہ معاشی فیصلے کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔البتہ اگر عدالت‘‘قومی سلامتی’’کے جواز کو فوقیت دیتی ہے، تو مستقبل کے صدور کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں — جو بین الاقوامی تعلقات اور عالمی تجارتی نظام کے لیے غیر یقینی صورتِ حال پیدا کریں گے۔
پاکستان ہمیشہ اصولی طور پر قانونی توازن، شفافیت، اور بین الاقوامی تجارتی استحکام کی حمایت کرتا رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی پالیسی کے مطابق، کسی بھی ملک کے لیے یکطرفہ معاشی اقدامات کی بجائے کثیرالجہتی مکالمے کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔پاکستان کا موقف ہے کہ عالمی تجارت کو سیاسی دباؤ یا داخلی ایگزیکٹو فیصلوں کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جو عالمی اداروں کے فیصلوں، معاہدات اور شفاف اصولوں پر مبنی ہو۔’’لرننگ ریسورسز بنام ڈونلڈ ٹرمپ‘‘ کا فیصلہ محض ایک مقدمہ نہیں بلکہ ایک عالمی اقتصادی نظریے کا تعین ہے۔ یہ مقدمہ طے کرے گا کہ امریکہ میں انتظامی طاقت کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور قانون سازی کا اختیار کہاں سے شروع ہوتا ہے۔عالمی سطح پر یہ مقدمہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب اختیارات کی توسیع قانون سے بڑھ جائے تو نتیجہ غیر یقینی، اقتصادی دباؤ اور بین الاقوامی تناؤ کی صورت میں نکلتا ہے۔دنیا کو آج ایسے عدالتی فیصلوں کی ضرورت ہے جو طاقت کی مرکزیت کے بجائے قانون کی برتری کو یقینی بنائیں۔ اسی میں عالمی امن، معاشی استحکام، اور اقوام کے باہمی اعتماد کا راز پوشیدہ ہے۔
امریکی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ جہاں واشنگٹن کے ایوانِ اقتدار میں ارتعاش پیدا کرے گا، وہیں دنیا بھر کے تجارتی اور مالیاتی نظام کے لیے بھی سمت متعین کرے گا۔ پاکستان اس عمل کو قانون کی بالادستی، بین الاقوامی تعاون اور متوازن تجارت کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ کیونکہ پائیدار ترقی صرف اسی وقت ممکن ہے جب طاقت قانون کے تابع ہو، نہ کہ قانون طاقت کے۔