طلعت بٹ
چھپن ستاون بے حس اور شریک بھائیوں کے نڈر بھائی پر ظلم کی اندھیر نگری کے ڈان اور اس کے چمچوں کی نام نہاد جنگی جارحیت پوری دنیا میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کیلئے ایک زناٹے دار طمانچہ ھے۔ایران میدان عمل میں کھڑا اور اپنا نظریہ بانگ دہل پیش کر چکا ھے۔ عالمی برادری جانتی ہے کہ فلسطین اور لبنانیوں پر اسرائیل اور اسکے حمایتیوں نے ہمیشہ ظلم ستم کی داستانیں رقم کی ہیں۔اب صفائیاں دینے کا وقت نہیں بلکہ مخالفین کو مسائل کا حل تلاش کرنا ہو گاکیونکہ 1400 سال پہلے سے اب تک سامری کی پرستش کرنے والوں نے ہمیشہ کی طرح حق کا ساتھ دینے کی بجائے اقتدار پرستی کو اپنی نا خلف اور بعد حواس سوچ کے ساتھ مسلم امہ کے ساتھ بے وجہ جنگوں کو ترجیح دی ! بنو امیہ سے لے کر ٹرمپ تک کی آؤ بھگت کی اور بنو ہاشم سے لے کر آج تک کے ہر حق پرست کی مخالفت کی ! فلسطینیوں کا بے گناہ خون بہتا رہا اور مشرق وسطیٰ میں عربوں نے ٹرمپ کی آؤ بھگت کرتے ہوئے اپنے مفادات کے تحت ان کی اپنے بھائی کے خلاف مدد کی۔امریکہ،اسرائیل اور اسکے حمایتیوں کو اپنے ملکوں میں اڈے دیے اپنے خزانوں کے منہ انکے لئے کھول دئے۔ اور مشرق وسطیٰ کیلئے ایک نام نہاد جنگ کو دعوت دے دی۔امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ کارروائیوں پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے فریقین سے بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے کی اپیل کی جس پر فریقین کا دعویٰ ہے کہ دونوں اطراف کے ہی اقدامات جائز ہیں لیکن ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے ابتدائی حملے جائز تھے یا نہیں یہ جانچنے کے لیے بین الاقوامی اصولوں کو دیکھنا ضروری تھا جن پر دوسری عالمی جنگ کی تباہی کے بعد زیادہ تر ممالک متفق ہوئے تھے۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری شروع ہونے کے فوراً بعد ٹرمپ نے تہران پر جوہری ہتھیار بنانے کا الزام لگایا،جو ان کے مطابق امریکی اتحادیوں کے لیے خطرہ ہو سکتا تھا اور جلد ہی امریکی سرزمین تک پہنچنے کے خوف سے کاروائی کی۔جس پر ایران نے بھی اپنے دفاع میں اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک پر بمباری کی جہاں اسرائیلی اور امریکی اتحادی فوجی اڈے موجود تھے۔اس زمن میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں ابتدائی امریکی،اسرائیلی حملوں کے حوالے سے درکار قانونی شرائط پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتیں! بہر صورت ان کے مطابق ایران کا جوابی حملہ بھی ممکنہ طور پر بین الاقوامی قانون کی خلاف تھا۔اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق آرٹیکل 2/4 کہتا ہے کہ کوئی بھی ریاست دوسری ریاستوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کر سکتی۔یہاں اہم قانونی سوال یہ ہے کہ آیا ایران اسرائیل اور امریکہ کے لیے ایک فوری اور ناگزیر خطرہ تھا یا نہیں؟انسانی حقوق کے وکیل جیفری نائس بھی اس بات سے متفق نظر آتے ہیں کہ 1998 سے 2006 تک انھوں نے سابق یوگوسلاوی صدر کے خلاف بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل میں استغاثہ کی قیادت کی۔جس میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اب بھی اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ایران اسرائیل جنگ کا آغاز بھی غیر قانونی تھا۔امریکہ کی اندرونی سیاست میں بھی اس جنگ پر بحث ہو رہی ہے۔ بہت سے ڈیموکریٹس کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف کی جانے والی کارروائی غیر قانونی ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔اس طرح اگر طاقتور ممالک بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے رہیں اور انھیں اس کے نتائج کا سامنا نہ کرنا پڑے تو بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ جنگ کے بعد قائم عالمی نظام ٹوٹ جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ھے کہ ایک طرف تو ایران پر
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں پر روس نے شور تو بہت مچایا! لیکن اس کا ردعمل نہ نظر آنے کے برابر ھی نظر آیا۔دوسری جانب روس نے ان حملوں پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے تہران کے ساتھ یکجہتی کا اشارہ بھی دیا تھا۔ تاہم کوئی بھی اقدام اٹھانے سے گریز کیا،جس سے روس کے اس تنازع میں براہ راست شامل ہوئے کا امکان سامنے آئے۔روسی حکومت کے ترجمان دمتری نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت کے باوجود صورت حال جارحیت میں تبدیل ہو گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ھے کہ ماسکو ایرانی قیادت اور اس ساری کشیدگی سے متاثرہ خلیجی ریاستوں کیلئے کچھ کر سکیں گے یا ! ،آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل، والے محاورے پر ہی عمل پیرا رہیں گے۔روس نے ایک طرف تو اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف بلا اشتعال جارحیت کی مذمت کی اور اسے سیاسی قتل اور خودمختار ریاستوں کے رہنماؤں کے خلاف ایک گھناونا منصوبہ قرار دیا ہے۔اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر ایرانی ہم منصب کو ایک تعزیتی پیغام بھیجا جس میں اسے انسانی،اخلاقی و بین الاقوامی قانون کی مذموم خلاف ورزی بھی قرار دیا۔چونکہ روس اور چین دونوں کے ایران کے ساتھ مضبوط سفارتی،تجارتی اور فوجی تعلقات ھیں۔ یہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ روس کی ایران کے لیے حمایت بڑی حد تک بیان بازی تک محدود کیوں ہے حالانکہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے تہران ماسکو کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک تھا اور ماسکو کو مغربی پابندیوں سے بچنے کے طریقے اختیار کرنے میں مدد کر رہا تھا۔ اس لحاظ سے ایرانی حکومت کا زوال روس کے اس عالمی منظرنامے کے لیے ایک دھچکا ہوگا۔وہ اپنے اتحادیوں کے لیے زیادہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں چاہے وہ وینزویلا کا معاملہ ہو یا شام کا یا گذشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ۔جیسا کہ روس بہت بری طریقے سے یوکرین جنگ میں پھنسا ہوا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ سفارتی بیانات اور فوجی ٹینیکل تعاون سے زیادہ مدد فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ کچھ کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں روکنے سے متعلق روسی قرارداد منظور نہ کی تو وہیں ایک ایسی قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی گئی۔اور پاکستان نے ان دونوں ہی قراردادوں کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔اجلاس کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اِن قراردادوں کے مسودے پیش کرنے پر بحرین اور روس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسلام آباد اس تنازع کے فوری حل کا مطالبہ کرتا ہے۔اجلاس کے دوران ماسکو کے نمائندے نے خلیجی ممالک کی قرارداد پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعصب پر مبنی اور جانبدار ہے جسے سیاق و سباق کے بغیر پڑھنے سے یوں لگے گا جیسے تہران نے خطے بھر میں اہداف پر بلاجواز حملہ کرنے کا فیصلہ کیا! اب ان سب کو سوال نہیں پوچھنے جواب دینے ھیں !