حکومت کا وژن صرف ہسپتال اور علاج فراہم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہے، ہیلتھ کیئر سسٹم متعدد مسائل کا شکار ہے
ایک ڈاکٹر روزانہ 40 مریضوں کا معائنہ کر رہا ہے ‘ وینٹی لیٹر جیسی بنیادی سہولیات کی کمی نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ بن چکی ہے:وزیرصحت
اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان کا ہیلتھ کیئر سسٹم متعدد مسائل کا شکار ہے اور اگر کسی وقت بڑے پیمانے پر لوگ بیمار ہو جائیں تو ملک کا ہیلتھ انفراسٹرکچر سنبھال نہیں پائے گا، جس کی مثال کووڈ وبا ہے۔ حکومت کا وژن صرف ہسپتال اور علاج فراہم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی جانب سے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے فراہم کی جانے والی نئی گاڑیوں کی حوالگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا حکومت کا وژن صرف ہسپتال اور علاج فراہم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہیلتھ کیئر سسٹم متعدد مسائل کا شکار ہے اور اگر کسی وقت بڑے پیمانے پر لوگ بیمار ہو جائیں تو ملک کا ہیلتھ انفراسٹرکچر سنبھال نہیں پائے گا، جس کی مثال کووڈ وبا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں ہر سال 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، لیکن پیدائش سے لے کر افزائش تک صحت کا موجودہ ایکو سسٹم مؤثر نہیں ہے اور ماحول، پانی اور دیگر عوامل لوگوں کو بیمار کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ڈاکٹر روزانہ 40 مریضوں کا معائنہ کر رہا ہے اور وینٹیلیٹر جیسی بنیادی سہولیات کی کمی نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو مریض بننے سے بچایا جائے اور ہیلتھ کیئر سسٹم کو ہر گلی، محلے اور صوبے میں پہنچایا جائے، نہ کہ صرف ہسپتال تک محدود رکھا جائے۔