2030کے بعد پاکستان کو 1.2 بلین ڈالر ویکسین کے لئے دینے پڑیں گے‘ کوشش کر رہے ہیں کہ لوکل پروڈکشن کریں‘ وفاقی وزیر صحت
اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ 2030کے بعد پاکستان کو 1.2 بلین ڈالر ویکسین کے لئے دینے پڑیں گے‘ کوشش کر رہے ہیں کہ تب تک ویکسین کی لوکل پروڈکشن کریں‘ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ذریعے ہیلتھ کئیر سیکٹر میں کامیابی ملے گی۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے پاک چائنہ فارماسیوٹیکل انویسٹمنٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لئے آج تاریخ دن ہے ہم اس دن کا کئی سالوں سے انتظار کر رہے تھے اے پی آئی اور ویکسین ہیلتھ کئیر سیکٹر کے لئے انتہائی اہم ہے پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر اور چائنہ کے لوگوں کا مشکور ہوں ۔ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ذریعے ہیلتھ کئیر سیکٹر میں کامیابی ملے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے لئے شکر کے لمحات ہیں پاکستان میں اے پی آئی کے ذریعے پروڈکشن کرنے جارہے ہیں ہم دنیا کے 51 ممالک میں ہم دوائیں ایکسپورٹ کرتے ہیں دوائیں بنانے میں استعمال ہونے والا خام مال امپورٹ کرتے ہیں اب ہم خام مال کی پروڈکشن پاکستان میں کرنے جارہے ہیں پاکستان میں کتنے ذہین لوگ ہیں ایسے بہت کم ممالک ہیںہم نے اپنے ٹیلنٹ کو استعمال نہیں کیا دو معاہدوں پر دستخط کرنے جارہے ہیں خام مال کی پروڈکشن اور پولٹری کی ویکسین کے لئے ایم او یو سائن کرنے جارہے ہیں‘4.5 ملین ڈالر کی پولٹری ویکسین ہم خریدتے ہیں 49 فیصد فارن پارٹنز ہماری مدد کر رہے ہیں۔وزیرصحت نے کہا کہ 2030تک عالمی مدد ختم ہوجائے گی پاکستان کو 2030 کے بعد 13 ویکسین جیب سے خریدنا پڑے گی اب لوگ کورونا سے نہیں مر رہے کیونکہ اسکی ویکسین ہے آنے والے دور میں لوگ کینسر سے بھی نہیں مریں گے اسکی ویکسین آرہی ہے۔ 2030کے بعد پاکستان کو 1.2 بلین ڈالر ویکسین کے لئے دینے پڑیں گے‘ کوشش کر رہے ہیں کہ تب تک ویکسین کی لوکل پروڈکشن کریں پولٹری کی ویکسین بھی باہر سے آتی ہے۔وزیرصحت نے کہا کہ جانوروں کی ویکسین اور انسانوں کی ویکسین دونوں اہمیت کی حامل ہیں جب ویکسین بنانے کا سوچا پتہ چلا کہ پاکستان کے پاس ویکسین پالیسی نہیں ہے ویکسین دکانوں میں نہیں ملتی یہ حکومت لوگوں کو دیتی ہے پاکستان کے پاس ایک سال سے کم عرصے میں ویکسین پالیسی موجود ہے۔