گورنر کے پی کا کرم میں امن و امان کی صورتحال پر صوبائی حکومت کی کارکردگی پر اظہارِ عدم اطمینان

گورنر کے پی کا کرم میں امن و امان کی صورتحال پر صوبائی حکومت کی کارکردگی پر اظہارِ عدم اطمینان

پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کرم میں امن و امان کے قیام میں ناکامی پر صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

کرم کی صورتحال پر اظہار خیال:
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی حکومت محض بیانات تک محدود ہے اور کرم میں 25 کلومیٹر کی سڑک پر اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو 9 مئی کے واقعات میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے شخص سے امن کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔
مذاکرات اور انصاف پر گفتگو:
گورنر نے کہا کہ جو لوگ ماضی میں دوسروں کو این آر او کا طعنہ دیتے تھے، وہ آج خود این آر او مانگ رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے اعمال کا فیصلہ عدالتوں کو کرنا ہے، وہ کوئی خاص مخلوق نہیں جو سزا سے مستثنیٰ ہو۔
صوبے کے مسائل اور نیشنل ایکشن پلان:
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو ابھی تک پانی کا حصہ نہیں ملا اور دیگر صوبے نہری معاملات پر اختلافات کا شکار ہیں۔انہوں نے سبز انقلاب کے ذریعے دہشت گردی کے مقابلے کی اہمیت پر زور دیا۔
آرمی چیف سے ملاقات:
گورنر نے بتایا کہ آرمی چیف سے ملاقات میں نیشنل ایکشن پلان اور دہشت گردی کے خاتمے پر گفتگو ہوئی۔آرمی چیف نے یقین دلایا کہ صوبے کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔
نتیجہ:
گورنر خیبر پختونخوا نے کرم میں امن کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور تمام سیاسی و عسکری قیادت کو اس سلسلے میں ایک صفحے پر رہنے کی اہمیت اجاگر کی۔