امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے الوداعی خطاب میں امریکا کی خارجہ پالیسی کا دفاع کیا، جس میں انہوں نے روس، ایران اور اسرائیل کے حوالے سے اپنی حکومت کی کامیاب پالیسیوں کا ذکر کیا۔
بائیڈن نے کہا کہ روس اور ایران امریکی مداخلت کے بغیر کمزور ہوئے ہیں اور گزشتہ چار سالوں میں امریکا کے دشمن کمزور ہوئے ہیں۔اپنے خطاب میں بائیڈن نے یوکرین میں روس کے خلاف امریکی امداد کا دفاع کیا اور اسرائیل کے حوالے سے تنقید کے باوجود اس کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ہمیشہ اپنے حریفوں سے آگے رہا ہے، اور چین جیسے حریف کو معاشی طور پر پیچھے چھوڑنے کے بارے میں جو خدشات تھے وہ بے بنیاد ثابت ہوئے۔غزہ میں جاری بحران کے حوالے سے بائیڈن نے کہا کہ امریکا حماس کی جانب سے پکڑے گئے قیدیوں کی رہائی کے قریب ہے اور اس کے بعد غزہ میں لڑائی رکنے کی امید ہے، جس کے ساتھ ساتھ امداد کا سلسلہ بھی بڑھایا جا سکے گا۔
انہوں نے غزہ میں مارے گئے بے گناہ فلسطینیوں کے حوالے سے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق ہونا چاہیے۔ اسرائیل کا دفاع کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ اسرائیل امن اور سلامتی کا مستحق ہے۔