12 سال بعد بھی دوران ڈیوٹی ہلاک مزدوروں کے اہل خانہ متاثر ہیں
عدالت نے محکموں کو جوائنٹ کمیٹی اور فوکل پرسن مقرر کرنے کا حکم دیا
لاہور( خصوصی رپورٹ)لاہور ہائی کورٹ میں کان کنوں کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کے اقدامات نہ کرنے اور دوران ڈیوٹی ہلاک مزدوروں کے ورثاء کو 12 سال بعد بھی معاوضہ نہ ملنے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ورثاء کو معاوضہ نہ ملنے کی تفصیلات طلب کر لیں اور متعلقہ محکموں کو جوائنٹ کمیٹی تشکیل دینے اور ہر محکمے کے لیے فوکل پرسن مقرر کرنے کا حکم دیا۔جسٹس خالد اسحاق نے سماعت کے دوران متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ سیکرٹری لیبر، سیکرٹری معدنیات، سیکرٹری ہیومن ریسورسز اور ایڈیشنل سیکرٹری سوشل ویلفیئر عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے سیکرٹری معدنیات کو ہدایت کی کہ کان کنوں کی رجسٹریشن کے لیے بنائی گئی ایپ فوری فعال کی جائے۔عدالت نے صوبہ بھر میں دوران ڈیوٹی ہلاک ہونے والے کارکنوں کے ورثاء کو معاوضہ نہ ملنے کی تفصیلات کے ساتھ ڈپٹی کمشنرز سے بھی معلومات طلب کیں۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عمران خان نے عدالت میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق کیے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔جسٹس خالد اسحاق نے انسانی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری م ئوثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 4 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی