لیتھیم بیٹریز کی درآمد پر بھاری ملکی زرمبادلہ خرچ ہونے کا خدشہ

 لیسکو یونٹ55 سے 60 روپے ، بیٹری سے 30 روپے تک میں یونٹ پڑیگا 
بزنس کمیونٹی کا نئی پالیسی بیٹریز کی پروموشن قراردیتے ہوئے تحفظات کا اظہار
لاہور(کرائم رپورٹر)سولر سسٹمز کی امپورٹ پر اربوں ڈالرز خرچ کرنے کے بعد اب لیتھیم بیٹریز کی درآمد پر ایک بار پھر بھاری ملکی زرمبادلہ خرچ ہونے کا خدشہ،لیسکو کا یونٹ مہنگا جبکہ لیتھیم بیٹری کا یونٹ سستا پڑیگا، لیکسو کا یونٹ55 سے 60 روپے جبکہ سولر سسٹم والوں کو لیتھیم بیٹری سے یونٹ 25 سے30 روپے تک میں پڑے گا ،بزنس کمیونٹی نے حکومت کی نیٹ بلنگ کی نئی پالیسی کو بیٹریز کی پروموشن قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کردیا ۔ ٓ تفصیلات کے مطابق حکومت کی نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی نئی پالیسی آن گرڈ سولر سسٹم کی حوصلہ شکنی کرکے بیٹریز سپورٹ سولر سسٹم کو فروغ دینے کی کوشش ہورہی ہے، مارکیٹ میں 5 کلو واٹ کی لیتھیم بیٹری اوسطاً سوا2ٓ لاکھ سے اڑھائی لاکھ روپے تک مل رہی ہے ،اس بیٹری سے یومیہ 4اعشاریہ5 یونٹس بجلی قابل استعمال ہوتی ہے،ماہانہ بنیادوں پر 5 کلو واٹ کی بیٹری سولر سے 135 یونٹس تک صرف کرتی ہیجو سالانہ 1620 یونٹس اور پانچ سالہ ورنٹی میں یہی بیٹری 8100 یونٹس تک استعمال ہوگی ۔ صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فہیم الرحمن سہگل نے ردعمل میں کہا ہے کہ پہلے سولر کو فروغ دیا گیا ،اب بغیر مشاورت کے نئی پالیسی دیدی ٓ۔سابق چئیرمین پیاف محمد علی میاں نے کہا کہ آئی پی پیز کیلئے عوام پر بوجھ ڈالا جارہا ، یہ لیتھیم بیٹریز کی پروموشن کی سازش بھی ہوسکتی ہے، حکومت فوری مسئلہ کو حل کرے۔لاہور چیمبر کی ممبر ایگزیکٹو کمیٹی آمنہ رندھاوا نے کہا کہ کاروباری خواتین نے پہلے بھاری سرمایہ لگاکر سولر سسٹمز لگائے، اب بیٹریز کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ٓ