سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
اصل وصال نفس کی موت سے شروع ہوتاہے۔یہ قرب،جوانسان کے جسم وجان سے بھی زیادہ قریب ہے،اس وقت محسوس ہوتاہے جب دل کے تمام پردے اٹھ جاتے ہیں اور روح اپنی محدودیتوں سے آزادہوکراصل محبوب کے ساتھ وصال حاصل کرتی ہے۔اصل جدائی فاصلے کی نہیں،غفلت کی ہے۔وصال کاراستہ نفس کی موت اورتطہیرسے گزرتاہے۔ صوفیاکرام نے انسان کووصال کی راہ میں عبادت اورذکرالہی کی تعلیم دی۔سجدہ،ذکراورمراقبہ انسان کی روحانی توانائی کوپاک کرتے ہیں،نفس کی خواہشات کوکمزورکرتے ہیں،اور دل کو وصال کیلئے تیار کرتے ہیں۔جیسے درخت کی جڑیں زمین میں مضبوط ہوں اورپانی اسے زندہ رکھے،اسی طرح روح کی جڑیں ذکراور فنامیں مضبوط ہوتی ہیں۔
انسان کے اندرموجودفراق کی کیفیت میں ہم نے دیکھاکہ وہ فراق خودطلب کابیج ہے،جوروحانی ترقی،معرفت،اوروصال کی جستجو کو پیداکرتاہے،جوہمیں یہ سمجھنے کی دعوت دیتاہے کہ فراق ایک جرم یانقصان نہیں،بلکہ روح کی بیداری اورطلب کی پہلی کرن ہے۔ جیسے سورج کی پہلی روشنی اندھیروں میں روشنی پیداکرتی ہے،اسی طرح طلبِ وصال انسان کی روح کے اندھیروں کومنورکرتی ہے۔ آئیے اب ہم اسی طلب کوعملی زندگی، تصوف اورتزکیہ نفس کے تجربات کے ساتھ مزیدسمجھنے کی کوشش کرتے ہیں،تاکہ فراق کی کیفیت انسان کوعلم، محبت اورروحانی بصیرت کی راہ پرلے جائے۔
انسان کی فطرت میں موجودفراق اورطلب اسے اپنی روحانی منزل کی طرف مائل کرتے ہیں،لیکن یہ مائلگی خودبخودوصال کی ضمانت نہیں۔فراق اورطلب کی شدت کے باوجود،اگر انسان اپنی دنیاوی خواہشات،تکبر،حسد،اورنفس کی ضدسے قابونہ پائے،تویہ طلب بے معنی رہ جاتی ہے۔اسی لیے صوفیاکرام نے انسان کوپہچاننے،دل کی صفائی کرنے،اور اپنے اندرونی تضادات کودورکرنے کی ضرورت پر زوردیا۔یہ عمل تزکیہ نفس کہلاتاہے ،وہ عمل جوانسان کواپنی حقیقت،اس کی حدود،اوررب کی قربت سے صحیح تعلق قائم کرنے کی طاقت دیتاہے۔قرآن کریم تزکیہ نفس کی اہمیت کواس طرح بیان کرتاہے:یقیناوہ کامیاب ہواجس نے اپنے نفس کوپاک کرلیا۔(الاعلیٰ:14)
تزکیہ نفس کامقصدمحض گناہوں سے بچنانہیں،بلکہ نفس کی وہ تمام عادات،خیالات اورخواہشات دورکرناہے جوروح کواصل محبوب سے جدارکھتی ہیں۔صوفیاکے نزدیک طلب کا حقیقی مرحلہ فنافی اللہ ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے وجود کی تمام محدودیتوں،خواہشات، اورفکری بندھنوں سے آزادہوکرمحض اللہ تعالی کی ذات میں اپنی بقاپاتاہے۔
جودنیامیں اندھارہا،وہ آخرت میں بھی اندھاہوگااورراستہ سے بہت دورہٹے گا۔(الاسرا:72)
یہ فرمائش واضح کرتی ہے کہ روحانی بصیرت کے بغیرانسان فراق کے غم میں پھنس کررہ جاتاہے۔دل کااندھاہونادنیاوی حجاب،غفلت اورنسیان کی وجہ سے ہے۔ یہی حجاب رفع کرنے کاراستہ تزکیہ نفس اورفنافی اللہ ہے۔حضرت ابن عربی فرماتے ہیں کہ طلب کے ساتھ ساتھ تزکیہ اورفناانسان کواس مقام پرلے آتے ہیں جہاں دل کی صفائی کے بعدروح نورِحق میں منورہوجاتی ہے،حجاب وپردے اٹھ جاتے ہیں،انسان اپنے اصل محبوب کے قرب کومحسوس کرتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے اندرواحدذات کے جلوے دیکھتا ہے اورفراق کاشعوروصال میں بدل جاتاہے۔حضرت مولانا روم نے اسے یوں بیان کیا:
عاشقم باش وعاشق راعاشق کن
تاکی یابی جان رادروصل جانان
محبت میں ڈوب جااوردوسرے کوبھی محبت کاطالب بنادے،تب ہی جان کووصالِ محبوب میں پائے گا۔
فنافی اللہ میں انسان اپنی ذاتی محدودیتوں کوپس پشت ڈال دیتاہے اوراپنی ذات کے ہراظہارکوحقیقتِ وحدت کیلئیقربان کردیتاہے۔اس مقام پردل کی ہردھڑکن،ہرسوچ،اورہر احساس محض اللہ کی یاداورحضورمیں ڈوب جاتاہے۔صوفیاکرام فرماتے ہیں کہ انسان کی روح اور فطری طلب کے اندرایک خالی پن ہمیشہ موجودرہتاہے،جوکسی دنیاوی چیزسے نہیں بھرتا۔حضرت ابن عربی کہتے ہیں:روح کااصل سکون اس کی پیدائش کے مقام میں ہے،اوروہ مقام وہی ہے جہاں اس نے اللہ کی قربت کامزہ چکھاتھا۔
یہی وہ مقام ہے جس کی جستجوانسان کوفطرتارہتی ہے۔طلب،نہ صرف روحانی ترقی کاذریعہ ہے بلکہ انسان کے اخلاق،فکراورمحبت کی گہرائی کوبھی بڑھاتی ہے۔صوفیا اسے’’موتوقبل ان تموتو‘‘یعنی مرنے سے پہلے مرجاناکہتے ہیں۔یعنی نفس کی موت،تاکہ روح اپنے رب کے قرب کاذائقہ چکھ سکے۔یہ قرب ہمیں یہ بتاتاہے کہ اصل مسئلہ فاصلے کانہیں بلکہ احساس کے زائل ہوجانیکاہے۔انسان اپنے رب سے دورنہیں ہوا،بلکہ اس قرب کے شعورسے غافل ہوگیاہے۔یہی غفلت فراق کودائمی دکھ میں بدل دیتی ہے،اوریہی بیداری اس فراق کو وصال کے سفرکانقط آغازبنادیتی ہے۔
یہ تحریرکسی نئی بات کی دعوت نہیں دیتی،بلکہ ایک پرانی،بھولی بسری یادکوبیدارکرنے کی کوشش ہے۔یہ یاداصل وطن کی ہے،اصل محبوب کی ہے،اوراس ازلی عہد کی ہے جوہم نے اپنے خالق سے کیاتھا۔جو اس مضمون کوپڑھے،وہ محض الفاظ نہ پڑھے بلکہ اپنے اندرجھانکے کیونکہ یہ داستان کسی ایک فردکی نہیں،بلکہ ہراس روح کی ہے جواپنے اصل کی طرف لوٹنے کیلئے بے چین ہے۔کیونکہ ہم سب پردیسی ہیں،اور ہماری منزل ایک ہی ہے۔اب واپسی کی تڑپ نے بے چین کررکھاہے۔ہم سب نے اپنے محبوب کودیکھا تھا۔ہم نے
اس سے وعدہ کیاتھا۔پھرہمیں جداکردیاگیا،تب سے یہ دنیاجدائی کی سرزمین ہے۔ہرمحبت،ہرآنسو،ہرکمی اسی ایک عظیم فراق کی یادہانی ہے۔
اورہرسچی روح آخرکاراسی محبوب کی طرف لوٹنے کیلئے بے چین رہتی ہے کیونکہ اصل وطن وہی ہے،اوراصل سکون بھی وہیں ہے ۔یہی شعورجب رفتہ رفتہ طلب میں بدلے گا،اور طلب انسان کواس راہ پرلے جائے گی جوفراق سے شروع ہوکروصال پرمنتج ہوتی ہے تو انسان کواپنی اصلی گھرکیلئے مضطرب کردیتی ہے،کیونکہ فراق اگرنہ ہوتووصال کی قدربھی نہیں ہوتی کیونکہ جب تک انسان یہ نہ سمجھے کہ وہ کیوں بے چین ہے،وہ کس چیزسے جداہواہے اوراس کی روح کس چیزکی متلاشی ہے،اس وقت تک نہ عبادت میں ذوق پیداہوتاہے،نہ دعامیں سوز،اورنہ ہی ذکرمیں حلاوت۔یہ یاداصل وطن کی ہے،اصل محبوب کی ہے،اوراس ازلی عہدکی ہے جوہم نے اپنے خالق سے کیاتھا۔یہ داستان کسی ایک فردکی نہیں،بلکہ ہر اس روح کی ہے جواپنے اصل کی طرف لوٹنے کیلئے بے چین ہے۔کیونکہ ہم سب پردیسی ہیں،اورہماری منزل ایک ہی ہے۔