ملک محمد اسحاق
زندگی ہموار راستے کا نام نہیں۔یہ تو دراصل تضاد کا دوسرا نام ہے—ایک ایسا مسلسل مکالمہ جو انسان کے دل اور حالات کے درمیان جاری رہتا ہے۔کبھی دل پر خوشی یوں اترتی ہے جیسے بارش بے دریغ برس رہی ہو۔ راحت، فراوانی، عزت، پہچان اور آسودگی ایک ہی سانس میں میسر آ جاتی ہیں۔ انسان سمجھنے لگتا ہے کہ شاید یہی زندگی کا مستقل مزاج ہے۔ مگر عین اسی لمحے، جب ہم اس کیفیت کو اپنی ملکیت سمجھ بیٹھتے ہیں، زندگی خاموشی سے سب کچھ واپس لینا شروع کر دیتی ہے۔جہاں رزق کی فراخی تھی وہاں تنگی آن بیٹھتی ہے۔جہاں آسائش تھی وہاں سادگی مجبوری بن جاتی ہے۔جہاں یقین تھا وہاں شک کی پرچھائیاں لمبی ہو جاتی ہیں۔یہ ظلم نہیں۔یہ ناانصافی نہیں۔یہ زندگی کی نحو ہے—وہ دستور جس پر کائنات چلتی ہے۔زندگی ضدّوں کی زبان میں بولتی ہے‘زندگی کبھی سیدھی لکیر میں سفر نہیں کرتی۔ یہ ضدّوں کے درمیان سانس لیتی ہے:روشنی اور تاریکی،دن اور رات،چھاؤں اور تپتی دھوپ،گرمی اور سردی،عروج اور زوال۔کبھی انسان کی زندگی اس شجر کی مانند ہوتی ہے جو پھلوں کے بوجھ سے جھکا ہوا ہو، اور کبھی وہی شجر بے برگ و بار کھڑا رہتا ہے۔ کبھی شاخیں سلامت ہوتی ہیں مگر پھل نہیں، اور کبھی ایسا بھی وقت آتا ہے کہ شاخیں نہیں—درخت ہی نہیں رہتا۔اور اس سب کے باوجود… زندگی چلتی رہتی ہے۔کیونکہ زندگی اختیار کا نام نہیں۔زندگی قناعت کا نام ہے—وہ قناعت جو ہاتھ خالی ہونے پر بھی دل کو ٹوٹنے نہیں دیتی۔
ملاقات کا اٹل قانون
کائنات میں ہر شے ملاقات کے قانون کے تحت ہے۔جو بلند ہوتا ہے، وہ اترتا بھی ہے۔ہر دن رات سے ملتا ہے،ہر ہنسی آنسو سے،ہر فراوانی کمی سے،ہر صحت بیماری سے،ہر جوانی بڑھاپے سے اور آخرکار، خود زندگی موت سے۔سبز اشارہ بھی ایک دن سرخ ہو جاتا ہے۔
ہر منصب کی مدت ہوتی ہے۔ہر بلندی کو ایک دن زمین چھونا پڑتی ہے۔تاریخ اس حقیقت کی سب سے بڑی گواہ ہے۔ وہ سلطنتیں جو براعظموں پر پھیل گئیں، مٹی میں مل گئیں۔ وہ حکمراں جو خود کو ابدی سمجھ بیٹھے تھے، اسی زمین میں جا سوئے جہاں عام اور گمنام لوگ سوتے ہیں۔ قیصر و کسریٰ ہوں یا فرعون و زار—نام بڑے تھے، مگر انجام ایک۔طاقت عارضی ہے اور اختیار—اکثر ایک خوش فہمی۔پھر بھی… کچھ نام مٹتے نہیں‘یہاں سوال یہ نہیں کہ سب کچھ مٹ جاتا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کچھ باقی کیوں رہ جاتا ہے؟کیا کبھی سمندر کو ختم ہوتے دیکھا؟کیا کبھی سورج کو طلوع سے رکتے دیکھا؟کیا کبھی چاند کو اپنی منزل بھولتے دیکھا؟آج ہم ستاروں سے راستہ نہیں پوچھتے۔ ٹیکنالوجی نے آسمان کی جگہ لے لی ہے، مگر تاریخ جانتی ہے کہ آسمان نے انسان کو کیا دیا۔ ستاروں نے رہنمائی دی—مسافر راستہ پا گئے۔ سورج نے حرارت دی—کھیت سنور گئے، موسم ترتیب میں آئے۔ چاند نے ردھم دیا—مہینے، مدّ و جزر اور معمولات بندھ گئے۔اور سمندر…
وہ نیچا رہا، مگر زندگی اسی سے ابھری۔اس نے دیا—اور بدلے میں اس کے دامن میں موتی اتر آئے۔ان کی عظمت غلبے میں نہیں تھی۔
عظمت خدمت میں تھی۔مقصد میں تھی۔
دینے کی اخلاقیات
یہاں سے زندگی کا سب سے گہرا سبق شروع ہوتا ہے۔دینا صرف پیسہ نہیں ہوتا۔دینا ایک رویہ ہے، ایک کردار، ایک شعور۔دینا یہ بھی ہے:
ایک سچی مسکراہٹ،کسی بوڑھے کے پاس چند لمحے بیٹھ جانا،یتیم کے سر پر محبت بھرا ہاتھ،بیمار کی عیادت اور خاموش ہم نشینی،ٹوٹے دل کو سہارا دینے والا ایک جملہ،کسی کو راستہ پار کرا دینا،کھانا بانٹ لینا،کمزور کے ساتھ کھڑا ہو جانا۔دینا توجہ ہے۔دینا عزتِ نفس ہے۔دینا یاد رکھنا ہے اور پھر ایک آفاقی اصول—انتہائی سادہ، مگر نہایت گہرا‘تم جو دیتے ہو، وہ لوٹتا ضرور ہے۔کبھی دولت بن کر،اور اکثر معنی بن کر۔دولت صرف پیسہ نہیں‘کبھی بدلہ یہ ہوتا ہے کہ اولاد میں کردار اتر آتا ہے۔کبھی یہ کہ لوگ تمہاری بات کو آگے لے جاتے ہیں۔کبھی صحت میں برکت، عمر میں وقار،کبھی خاندان اور معاشرے میں عزت اور کبھی ایسی خود داری کہ ہاتھ پھیلانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔یہ سب بھی دولت ہے۔
دینے والے ہمیشہ کرنسی میں امیر نہیں ہوتے،مگر وہ وسائل میں امیر ہو جاتے ہیں‘رشتوں میں، حوصلے میں، نیک نامی میں، اور دل کے سکون میں۔
تاریخ کا بے رحم مگر منصف فیصلہ
تاریخ ظلم کے ساتھ رعایت نہیں کرتی۔خوف سے حکومت کرنے والے جلد مٹ جاتے ہیں۔فتح کرنے والے بہت کچھ لے جاتے ہیں،
مگر پیچھے نفرت چھوڑ جاتے ہیں اور جو خدمت کرتے ہیں ان کی مدت کم بھی ہو تو نقش گہرا ہوتا ہے۔حکومتیں ختم ہو جاتی ہیں،
مگر اگر روشنی بانٹی گئی ہو تو چراغ رہ جاتے ہیں۔زور سے لی گئی طاقت گھل جاتی ہے۔خدمت سے کمائی گئی طاقت ٹھہرتی ہے۔
آخری بات: زندگی کو سمجھنے کا ہنر
زندگی کو فتح نہیں کرنا۔زندگی کو سمجھنا ہے۔تمہارا حساب اس سے نہیں ہوگا کہ تم نے کتنا قابو رکھا،بلکہ اس سے ہوگا کہ تم نے کتنا بانٹا—
کسی کے دکھ میں کمی کی،کسی کے دل میں امید رکھی۔دو—اس لیے نہیں کہ بدلے کی رسید ملے،بلکہ اس لیے کہ دیناکائنات کے مزاج سے ہم آہنگ ہونا ہے۔فراوانی میں بھی دو۔کمی میں بھی دو۔خاموشی سے دو۔مسلسل دو۔کیونکہ دینے میں انسان کم نہیں ہوتا—وہ پھیلتا ہے،
اور اپنے بعد بھی باقی رہتا ہے۔دینے والے ہاتھ خالی نہیں ہوتے؛وہ بس اتنے بھرے ہوتے ہیں کہ تھام نہیں پاتے۔دیتے رہیے۔
روشن رہیے۔اور زندگی—اپنے پراسرار، مگر عادلانہ نظام کے ساتھ—آپ کو بااثر، مضبوط، اور یادگار رکھے گی۔