محمد باقر جاوا
انسان کی فطرت میں کمزوری رکھی گئی ہے۔ وہ فرشتہ نہیں کہ ہر لمحہ پاک رہے، نہ ہی شیطان ہے کہ ہمیشہ برائی کرے۔ انسان وہ مخلوق ہے جو نیکی اور بدی کے درمیان چلتی ہے۔۔کبھی نیکی کی طرف بڑھتی ہے اور کبھی کمزوری کے ہاتھوں گناہوں کی دلدل میں گر جاتی ہے۔ گناہ ہو جانا کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ انسان خطا کا پْتلا ہے۔ لیکن سب سے بڑا المیہ اْس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان گناہ کرنے پر شرمندہ ہونے کے بجائے خوش ہونے لگے۔ یہی کیفیت روحانی موت اور باطنی اندھے پن کی شروعات ہے۔
امام زین العابدین علیہ السلام نے ایک جملے میں پوری انسانی نفسیات کو بیان کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ’’خبردار! گناہوں پر خوش نہ ہونا، کیونکہ گناہ پر خوش ہونا خود گناہ سے بھی بڑا گناہ ہے‘‘۔یہ الفاظ حقیقت کا آئینہ ہیں۔ گناہ ایک وقتی عمل ہے مگر گناہ پر خوشی ایک باطنی بیماری ہے جو انسان کے ایمان کو اندر سے کھا جاتی ہے۔ جب انسان اپنے برے عمل پر مسکرانے لگتا ہے تو وہ صرف گناہ نہیں کرتا بلکہ اپنے ضمیر کو بھی دفن کر دیتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے‘‘۔ (المطففین: 14 )۔۔یہ ‘‘زنگ’’ دراصل گناہ پر خوشی، اس کے جواز اور فخر سے پیدا ہوتا ہے۔ شروع میں انسان کو گناہ برا لگتا ہیمگر جب وہ اسے بار بار دہراتا ہے اور اس پر شرمندہ نہیں ہوتا تو اس کا دل سخت ہو جاتا ہے۔ پھر وہ گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا۔ یہی روحانی اندھے پن کی سب سے خطرناک شکل ہے۔نبی کریم نے فرمایا:’’تمام انسان خطاکار ہیں، اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں‘‘۔۔توبہ کا مطلب صرف’’استغفراللہ‘‘ کہنا نہیں بلکہ دل سے ندامت محسوس کرنا ہے۔ جب انسان کو احساس ہو کہ میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے تو اس کے دل پر بوجھ آتا ہے، آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں اور وہ اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے۔ یہی کیفیت انسان کو پاک کرتی ہے۔لیکن اگر گناہ کے بعد دل میں ندامت کے بجائے اطمینان ہو، زبان پر فخر ہو یا چہرے پر مسکراہٹ ہو تو دل سے ایمان کا نور بجھنے لگتاہے۔یہی وجہ ہے کہ امام علی نے فرمایا’’: گناہ پر خوشی گناہ کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے‘‘۔کیونکہ گناہ ایک وقتی لغزش ہے مگر گناہ پر خوشی ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ روح میں پھیل جاتا ہے۔ انسان کے ضمیر کو مردہ کر دیتا ہے اور جب ضمیر مر جائے تو انسان ہر برائی کو معمول سمجھنے لگتا ہے۔
فرعون، قارون اور ابلیس یہ تینوں صرف اس لیے ہلاک نہیں ہوئے کہ انہوں نے نافرمانی کی بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی نافرمانی پر مغرور اور خوش تھے۔ قرآن میں قارون کے بارے میں فرمایا گیا: ’’اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے گناہوں پر خوش ہوتے ہیں‘‘۔(القصص: 76 )۔۔قارون کے پاس بے پناہ دولت تھی مگر وہ سمجھ بیٹھا کہ یہ سب اس کی اپنی عقل اور محنت کا نتیجہ ہے۔ اس نے یہ بھلا دیا کہ جو کچھ ہے وہ اللہ کی عطا ہے۔ اسی غرور نے اسے زمین میں دھنسا دیا۔حضرت علی فرماتے ہیں: ’’گناہ ذلت پیدا کرتا ہے اور اطاعت عزت دیتی ہے‘‘۔لیکن
جب انسان گناہ کو عزت سمجھنے لگے تو وہ تباہی کی راہ پر ہے۔امام جعفر صادق نے فرمایا: ’’کچھ گناہ جنت میں لے جاتے ہیں، اور کچھ گناہ جہنم میں‘‘۔لوگ حیران ہوئے اور پوچھا: مولا، گناہ جنت میں کیسے لے جا سکتا ہے؟۔۔آپ نے فرمایا: ’’وہ گناہ جو انسان کو شرمندہ کرے، توبہ پر آمادہ کرے، وہ جنت میں لے جاتا ہے۔ اور وہ گناہ جو انسان کو مغرور کرے، خوش کرے، وہ جہنم میں گراتا ہے‘‘۔یہ بات دل میں اْتارنے کی ہیکہ اگر انسان غلطی کرے مگر شرمندہ ہو تو وہ ابھی زندہ ہے — اس کے اندر ایمان باقی ہے۔ لیکن اگر وہ گناہ کے بعد مطمئن ہو جائییا کہے کہ سب ایسا ہی کرتے ہیں تو وہ اندر سے مر چکا ہے۔
آج کے دور میں یہی سب سے عام بیماری ہے۔جھوٹ بولنا چالاکی سمجھا جاتا ہے، وعدہ توڑنا زمانے کا تقاضا، رشوت لینا چلن، فحاشی آزادی، ظلم طاقت اور خودغرضی سمارٹ ہونا بن گئی ہے۔یہ سب دراصل گناہ پر خوش ہونے کی مختلف شکلیں ہیں۔قرآن میں اللہ فرماتا ہے: ’’کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو، وہ ہدایت پا سکتا ہے؟‘‘۔( فاطر: 8 )۔یعنی جب انسان کو اپنی برائی اچھی لگنے لگے، تو پھر وہ ہدایت سے دور ہو جاتا ہے۔نبی نے فرمایا: ’’جب تمہیں نیکی پر خوشی اور گناہ پر افسوس ہو تو تم مومن ہو‘‘۔یہ ایمان کا پیمانہ ہے۔ جو گناہ کے بعد شرمندہ ہو، وہ ایمان والا ہے۔ جو گناہ کے بعد مطمئن ہو وہ غافل ہے۔شیطان نے بھی گناہ کیا مگر اصل تباہی اس کے فخر میں تھی۔ اس نے کہا: ’’میں آدم سے بہتر ہوں‘‘۔یہی غرور اس کے لیے ہمیشہ کی لعنت بن گیا۔ اس نے اپنی نافرمانی پر خوشی محسوس کی، ندامت نہیں۔ یہی عمل ہر انسان کے لیے تنبیہ ہے کہ کہیں ہم بھی شیطان کی راہ پر تو نہیں؟۔۔قرآن میں اللہ فرماتا ہے: ’’اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو‘‘۔( الزمر: 53 )۔۔یہ آیت ہمیں امید دیتی ہے۔ یعنی اگر تم گناہ کر بیٹھے ہو، مگر دل میں ندامت ہے، تو اللہ تمہیں معاف کر دے گا۔لیکن وہ شخص جو گناہ کے بعد ہنستا ہے، یا کہتا ہے کہ کیا ہوا اللہ تو غفور الرحیم ہے۔۔ وہ دراصل خود کو دھوکے میں ڈال رہا ہوتا ہے۔اللہ یقیناً غفور الرحیم ہیمگر رحمت ان کے لیے ہے جو توبہ کرتے ہیں، نہ کہ ان کے لیے جو گناہ پر خوش ہیں۔توبہ دل کی نرمی کا نام ہے۔جب دل سخت ہو جائے تو آنکھوں سے آنسو خشک ہو جاتے ہیں، زبان پر’’ استغفار‘‘صرف لفظ رہ جاتا ہیاور احساس ختم ہو جاتا ہے۔یہی وہ حالت ہے جسے روحانی موت کہا گیا ہے۔حضرت علی فرماتے ہیں: ’’دو گناہوں سے ڈرو: ایک وہ جو تمہیں خوش کرے، اور دوسرا وہ جو تمہیں غافل کرے‘‘۔یعنی اگر کوئی گناہ تمہارے چہرے پر مسکرا ہٹ لاتاہیتو سمجھ لو کہ تمہارا ایمان خطرے میں ہے۔
آج کے معاشرے میں یہ کیفیت عام ہے۔ ہم کسی کو دھوکہ دیتے ہیں تو فخر کرتے ہیں، کسی کی حق تلفی کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ میرا حق تھا، کسی کو نیچا دکھاتے ہیں تو مسکراتے ہیں۔۔یہ سب چھوٹے چھوٹے لمحے دراصل گناہ پر خوشی ہیں۔ اور یہی وہ زہر ہے جو انسان کی روح کو مار دیتا ہے۔گناہ انسان کو نیچے گراتا ہے لیکن گناہ پر خوشی اسے ختم کر دیتی ہے۔ گناہ کو شرمندگی مٹا سکتی ہے مگر گناہ پر خوشی ایمان کو جلا دیتی ہے۔جب انسان گناہ پر شرمندہ ہوتا ہے، تو اللہ اس کے قریب ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ گناہ پر خوش ہوتا ہے تو شیطان اس کے قریب ہو جاتا ہے۔یہی وہ باریک فرق ہے جو ایمان اور غفلت کے درمیان حد فاصل کھینچتا ہے۔نبی اکرم کا فرمان ہے : ’’جو اپنے گناہ سے توبہ کرتا ہے، وہ ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ‘‘۔اللہ کی رحمت بیحد وسیع ہے لیکن یہ رحمت ان دلوں پر برستی ہے جو ٹوٹے ہوئے ہوں، مغرور دلوں پر
نہیں۔پس اے انسان! اپنے رب کی طرف پلٹ آ۔اپنے گناہوں پر مسکرانا چھوڑ دے۔اپنے گناہوں پر فخر کرنے کے بجائے ان پر رو۔اپنی خوشی کو توبہ میں بدل دے، اپنی مسکراہٹ کو ندامت کے آنسوئوں میں ڈھال دے۔شاید یہی آنسو تیرے لیے نجات کا ذریعہ بن جائیں۔کیونکہ اللہ کے نزدیک وہ آنکھیں قیمتی ہیں جو گناہ پر روتی ہیں، وہ دل محبوب ہیں جو ٹوٹ کر توبہ کرتے ہیں اور وہ زبانیں پاک ہیں جو استغفراللہ کہہ کر واقعی شرمندہ ہوتی ہیں۔یاد رکھیں گناہ زندگی کی کمزوری ہے، لیکن گناہ پر خوشی روح کی تباہی۔گناہ توبہ سے مٹ جاتا ہے مگر گناہ پر فخر انسان سے ایمان چھین لیتا ہے۔جو اپنے گناہ پر روتا ہے، وہ اللہ کا دوست ہے اور جو اپنے گناہ پر ہنستا ہے وہ شیطان کا ساتھی۔پس دل کی گہرائی سے توبہ کرو کیونکہ زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ وہ ہے جب آنسو توبہ بن جائیں ۔