فراق سے وصال تک: روح کی ازلی جستجو

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
انبیاکی زندگی بھی طلبِ وصال کاعملی مظاہرہ ہے۔حضرت موسیٰ کی والدہ نے بچے کودریامیں چھوڑا،مگریہ عمل خوف یاصدمے کا نتیجہ نہیں تھا،بلکہ اعتماداوروصال کی امیدکاسبق تھا۔یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ فراق کے بعدبھی طلب،اعتماداوروصال کی امیدپیداکرتی ہے۔یہ تمام واقعات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جدائی انسانی تجربے کا محض ایک نفسیاتی پہلونہیں بلکہ ایک گہراروحانی رازہے۔حضرت آدم اورحضرت حوابھی برسوں ایک دوسرے سے جدارہے،یہاں تک کہ آدم نے پوری دنیاپیدل چھان ماری تاکہ اپنے محبوب کوپاسکیں۔
ازلی فراق کے شاعرمولاناجلال الدین رومی کے نزدیک انسان کی ساری بے قراری کی جڑ یک ہی ہے،اصل سے جدائی۔مثنوی کاآغاز ہی فراق کی چیخ اورفریادسے ہوتاہے۔ رومی اس فراق کوانسان کی پوری نفسیات کی بنیادقراردیتے ہیں۔ان کے نزدیک انسان کاہرسوال، ہرتلاش اورہربے قراری اسی ایک حقیقت سے جنم لیتی ہے کہ وہ اپنے اصل سے جداہوچکاہے۔رومی نے اس رازکواپنی مثنوی میں نہایت گہرے اورہمہ گیراندازمیں بیان کیاہے۔جب مولانا جلال الدین رومی اپنے مرشدشمس تبریزسے جداہوئے تویہ جدائی انہیں ایساتوڑگئی کہ وہ دنیاسے بے خبر،دیوانہ وارپھرنے لگے اوراسی فراق نے مثنوی کوجنم دیا۔مثنوی کاآغازہی فراق کی صداہے:
بشنو ازنی چون حکایت میکند
ازجداییہاشکایت میکند
بانسری کی سن،وہ کیاکہانی سناتی ہے،وہ جدائیوں کاشکوہ ہے۔
ہر کسی کودورماندازاصل خویش
بازجویدروزگاروصل خویش
جواپنے اصل سے جداہوجائے،وہ ہمیشہ وصال کے دنوں کی تلاش میں رہتاہے۔
کزنیستان تامراببریدہاند
ازنفیرم مردوزن نالیدہاند
جب سے مجھے نیستان(اصل وطن)سے کاٹاگیاہے،میری فریاد پرمردوزن سب روئے ہیں۔
یہ نیستان محض ایک استعارہ نہیں بلکہ عالمِ ارواح کی علامت ہے۔بانسری کاسوزاس روح کی آوازاورسوزہے جواپنے اصل مقام سے کاٹ دی گئی ہو۔جواپنے اصل وطن،اپنے حقیقی محبوب سے جداہوکراس دنیامیں آگئی ہے اوراب ہرلمحہ اسی وصال کی جستجو میں سوز وگدازکے ساتھ نالہ زن ہے۔رومی کے نزدیک انسان اگراپنی بے چینی کوسمجھناچاہتاہے تو اسے اپنی جدائی کوسمجھناہوگا،کیونکہ وصال کی طلب فراق کے شعورکے بغیرپیدانہیں ہوتی۔رومی کہتے ہیں،یہ بانسری کی آوازدراصل روح کی وہ آواز،سوزاورفریادہے،جواپنے اصل وطن،اپنے حقیقی محبوب،اوراللہ تعالی سے جدائی کانوحہ ہے۔
قرآن کریم انسان کی اسی باطنی کیفیت کی طرف متوجہ کرتاہے،جب وہ انسان کی تخلیق کومحض جسمانی واقعہ نہیں بلکہ ایک روحانی تاریخ کے تسلسل کے طورپرپیش کرتاہے۔انسان اس دنیامیں محض پیدانہیں ہوا،بلکہ بھیجاگیاہے۔اوربھیجے جانے کاتصورخوداس بات کی دلیل ہے کہ کہیں نہ کہیں سے جدائی واقع ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن انسان کوبارباراس بات
کی یاددہانی کراتاہے جوپہلے معلوم ہو،جوپہلے دیکھی جاچکی ہو،اورجوپہلے تجربے میں آ چکی ہو۔اگرانسان نے کبھی اپنے رب کونہ جاناہوتاتواسے یاددلانے کامفہوم ہی بے معنی ہو جاتا ۔یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ انسان کی روحانی اساس ہے۔ہرروح نے اللہ تعالی کی ربوبیت کوپہچانا،اس کی قربت کومحسوس کیااوراسی قربت میں سکون پایا۔اسی لیے جب انسان اس دنیامیں آتاہے تواس کے دل میں ایک ایسی پیاس موجودہوتی ہے جوکسی مادی شے سے نہیں بجھتی۔یہ پیاس دراصل اسی قرب کی پیاس ہے۔
دراصل عالمِ ارواح اصل وطن ہے،یہ دنیاہماراپہلا گھرنہیں،اورنہ ہی یہ دنیاہم سب کا اصل وطن ہے۔یہاں ہم مسافرہیں،پردیسی ہیں۔ہم ایک ایسے عالم سے آئے ہیں جہاں نہ بھوک تھی،نہ خوف،نہ غم تھا،نہ خواہش،نہ رشتہ،نہ فاصلہ،بس ایک ذات تھی،اوراسی کی قربت۔یہ طلب،انسانی زندگی کے تمام تجربات کامحورہے۔دنیاوی تعلقات،رشتے،اور خوشیاں سب اس طلب کی آئینہ دارہیں۔اگرچہ انسان ان میں سکون تلاش کرتاہے،مگروہ سکون عارضی ہوتاہے۔اصل سکون وہ ہے جواصل محبت سے وصال کے لمحے میں محسوس ہوتاہے۔
قرآن کریم انسان کی اس فطرتی طلب کی طرف باربارتوجہ دلاتاہے اوراس حقیقت کوقرآن عہدِ الست کے ذریعے واضح کرتاہے:اور(یادکیجئے)جب آپ کے رب نے اولادآدم کی پشتوں سے ان کی نسل نکالی اوران کوانہی کی جانوں پرگواہ بنایااورفرمایاکیامیں تمہارا رب نہیں ہوں؟وہ بول اٹھے ہاں،ہم گواہی دیتے ہیں۔الاعراف:172
یہی وہ عہدہے جوہماری فطرت میں دفن ہے،اوریہی وہ یادہے جوہمیں چین سے جینے نہیں دیتی۔یہی وہ عہدہے جوانسانی فطرت میں پیوست ہیاوریہی وہ یادہے جودل کے کسی نہ کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے، چاہے دنیاکی مصروفیات اسے کتناہی دھندلاکیوں نہ دیں۔یہ آیت انسان کی اندرونی جستجوکی بنیادہے۔انسان کی روح یادرکھتی ہے،اور وہ عہدجوازل میں ہواتھا،ہرزندگی کے لمحے میں اس کویاددلاتاہے۔یہی شعورطلب کی بنیادہیوہ طلب جوروح کواس کے اصل سے جوڑتی ہے اوردنیاکے زنگ آلودتعلقات سے الگ کرکے روحانی زندگی کی راہ پرگامزن کرتی ہے۔حضرت سلطان باہوکی صوفیانہ صدانے اسی کیفیت کوسادہ مگرنہایت گہرے الفاظ میں بیان کیا:
اساں پردیسی ساڈاوطن دوراڈھا
باھودم دم غم سوایاہو
ہم پردیسی ہیں،ہماراوطن بہت دورہے،اورہرسانس کے ساتھ فراق کاغم بڑھتاجارہاہے۔یہ غم مایوسی کاغم نہیں بلکہ یادکاغم ہے ،وہ یاد جوروح کوچین سے بیٹھنے نہیں دیتی،اوروہی یادجوآخرکارانسان کواس کے اصل کی طرف لوٹادیتی ہے۔یہ الفاظ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ انسان دنیامیں پردیسی ہے اورروحانی طلب اسے مسلسل اصل کی طرف کھینچتی ہے۔طلب اوروصال کایہ سلسلہ انسانی زندگی کاسب سے بنیادی تجربہ ہییہی انسان کوعلم،محبت،اورمعرفت کی راہ پرگامزن کرتاہے۔طلبِ وصال کاسب سے مثرذریعہ ذکرِالہی ہے ۔ قرآن فرماتاہے:اور(اے پیغمبر)جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو(کہہ دوکہ)میں تو(تمہارے)پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکار تا ہے تومیں اس کی دعاقبول کرتاہوں۔(البقرہ::86)
جب انسان طلب کے ساتھ اپنے رب کی یادمیں ڈوبارہتاہے،توفراق کی کیفیت نرم ہوجاتی ہے اوروصال کے لمحات قریب محسوس ہونے لگتے ہیں۔یہی شعورہمیں انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیوں میں بھی نظرآتاہے۔حضرت آدم کادنیامیں آکرجنت کی یادمیں تڑپنا،حضرت یعقوب کی آنکھوں کاسفیدہوجانا،حضورنبی کریم ﷺ کامکہ سے وداع کے وقت دردبھرے الفاظ کہنا،یہ سب اسی فراق کے مختلف مظاہرہیں۔ان ہستیوں کاغم دنیاوی نہیں تھا،بلکہ ایک اعلی درجے کاروحانی شعورتھا،جس میں جدائی محض نقصان نہیں بلکہ امتحان بن جاتی ہے۔یہ بات بھی قابلِ غورہے کہ قرآن قربِ حق ،وصال کاراستہ،قربِ حق جدائی کامداوا،جدائی کے ساتھ قرب کی بھی خبردیتاہے۔قرآن انسان کی اس قربت کو اس طرح بیان کرتا ہے:ہم نے انسان کوپیداکیااوراس کے دل میں جوخیالات اٹھتے ہیں،ان سے ہم واقف ہیں اورہم اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ (ق:16)
حضورنبی اکرمﷺنے فرمایا:بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتاہے،لہذاتم خوب دعاکیاکرو۔(صحیح مسلم482)
(جاری ہے)