فراق سے وصال تک: روح کی ازلی جستجو

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
انسانی زندگی کی سب سے گہری اورپائیدارکیفیات میں ایک کیفیت ایسی ہے جسے نہ مکمل طورپربیان کیاجاسکتاہے اورنہ ہی اس سے فرارممکن ہے۔انسان کی زندگی میں کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جوزبان سے ادانہیں ہوتے،مگردل میں مسلسل دستک دیتے رہتے ہیں۔ ایک نامعلوم سی کمی،ایک بے نام سی اداسی،ایک انجاناساکھنچاؤ جودولت،رشتوں، کامیابیوں اورآسائشوں کے باوجودختم نہیں ہوتا۔ انسان کامیاب ہوتاہے،تعلقات قائم کرتاہے،ہنستاہے،آگے بڑھتاہے مگراس سب کے باوجوددل کے کسی گوشے میں یہ احساس زندہ رہتا ہے کہ کچھ ہے جوچھن گیاہے،کچھ ہے جوپیچھے رہ گیاہے،اورکچھ ہے جس کی یادروح کوبے چین رکھتی ہے۔
فطری فراق سے روحانی جستجواورطلبِ وصال کے سفرکوسمجھنے کی کوشش کرنے سے قبل روح سے وجودتک کے سفرکوسمجھنا ضروری ہے۔انسان کی ہرروح،جب اس دنیامیں قدم رکھتی ہے،ایک فطری بے چینی کے ساتھ آتی ہے۔یہ بے چینی،جوفراقِ ازل کی یاد کاشعلہ ہے،جوخاموش رہ کرانسان کی نفسیات کے گوشوں میں حرارت پیداکرتاہے۔یہ حرارت اسے اس بات کی یاددلاتی ہے کہ اصل وطن اوراصل محبوب کہیں دورہے،اوراسی کے حصول کیلئے روح کومسلسل طلب میں رہناہوگا۔
انسان جب اس دنیامیں آنکھ کھولتاہے توبظاہروہ ایک مکمل نظام کے اندرپیداہوتاہے ،ماں باپ،خاندان،معاشرہ،زبان،مذہب اورتہذیب، اسے سکھایاجاتاہے کہ وہ خودکوانہی نسبتوں کے ذریعے پہچانے،انہی دائروں میں معنی تلاش کرے اورانہی حدودکے اندراپنی خوشی اورغم کوسمجھنے کی کوشش کرے۔مگران تمام ظاہری شناختوں کے باوجود،انسان کے باطن میں ایک ایسی کیفیت ہمیشہ موجودرہتی ہے جسے نہ خاندان مٹاسکتاہے،نہ معاشرہ،نہ علم،نہ دولت،اورنہ ہی اقتدار۔انسان کے باطن میں بسی ہوئی جدائی ہی دراصل کیفیت فراق کاشعورہے۔یہ شعورابتدامیں واضح نہیں ہوتا۔یہ کسی ایک واقعے،کسی ایک صدمے یاکسی ایک جدائی سے پیدانہیں ہوتا،بلکہ انسان کی فطرت میں پہلے سے موجودہوتا ہے۔ دنیاکی جدائیاںکسی عزیزکی موت،کسی محبوب سے بچھڑنا،کسی وطن سے ہجرتدرحقیقت اسی اندرونی فراق کوبیدارکرتی ہیں،پیدانہیں کرتیں۔یوں کہاجاسکتاہے کہ دنیاکی ہرجدائی، اس ایک عظیم جدائی کاعکس ہے جوانسان نے شعوری یالاشعوری طورپرپہلے ہی جھیل رکھی ہے۔
انسان جب کسی سے محبت کرتاہے اورپھراس سے محروم ہوتاہے تواس کادردمحض اس شخص تک محدودنہیں رہتا۔وہ غم غیرمتناسب ہوتاہے،حدسے بڑھاہوا،اوربعض اوقات اس تعلق سے بھی بڑامحسوس ہوتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں انسان حیران ہوتاہے کہ آخریہ دکھ اتناگہراکیوں ہے؟اس سوال کاجواب یہی ہے کہ یہ دکھ کسی ایک رشتے کانہیں،بلکہ اصل محبوب سے جدائی کاہے،جوکسی ایک چہرے،کسی ایک تعلق یاکسی ایک یادکے پردے میں ظاہرہوجاتاہے۔
یہ ایک ایسااحساس ہے جوبظاہرخاموش رہتاہے،مگرباطن میں مسلسل بولتارہتاہے؛ایک ایسی کمی جوکسی ظاہری سبب کے بغیردل میں بسی رہتی ہے؛ایک انجانی اداسی جومسرتوں کے ہجوم میں بھی اپناوجودبرقراررکھتی ہے۔یہی احساس دراصل اصل وطن کی یادہے۔وہ وطن جومٹی کانہیں تھا،وہ وطن جو زمین کا کوئی خطہ نہ تھا،وہ گھرجواینٹ اورپتھرسے تعمیرنہیں ہواتھا ،وہ قربت جوجسمانی نہیں بلکہ روحانی تھی۔وہ جوآنکھوں کاتارا،دل کی ٹھنڈک،چہرے کانوراورزندگی کاسہاراہوجوتپتی دھوپ میں سایہ بن جائے،ڈوبتے سمندرمیں کنارہ ہو، تاریک راہوں میں چراغ اورصبحِ صادق کی پہلی روشنی ہو۔جس سے تعلق ایساہوجیسے پھول کاخوشبوسے،سازکانغمے سے،شعرکاشاعرسے،صانع کاصنعت سے،پرندے کاآسمان سے۔جس کے خیال سے دل کی دھڑکنیں سنبھل جائیں،جس کی موجودگی میں اضطراب سکون میں بدل جائے،جس کاساتھ پہاڑکی مانندمضبوط ہو،جس کاہاتھ تھام کرقدم بے خوف دوڑنے لگیں،ایساتعلق جوسکون بھی ہواورزندگی بھی، ۔  سایہ بھی ہواورسمت بھی،چراغ بھی ہواورروشنی بھی اورپھراچانک وہ ہاتھ چھوٹ جائے،اورجب ایساتعلق اچانک چھن جائے،دل کاشیشہ کرچی کرچی ہوجائے،قدم لرزنے لگیں،راستے اندھیروں میں ڈوب جائیں،پھول مرجھاجائیں اوردل غم کے گہرے سمندرمیں اترجائے توانسان پہلی بار یہ جانتاہے کہ جدائی محض فاصلہ نہیں، بلکہ ایک داخلی زلزلہ ہے۔محبت کاسب سے بڑاامتحان موت نہیں،بلکہ جدائی ہے۔یہی جدائی ہے،اورجدائی محبت کاسب سے سخت امتحان۔ موت ہویازندگی کی کوئی اورآزمائش،محبت کے سب سے کڑے لمحے وہی ہوتے ہیں جب اپنے ان لوگوں سے بچھڑناپڑے جن کے بغیرزندگی کاتصوربھی محال تھا۔
کبھی کوئی خاک میں اترکرجداہوجاتاہے،اورکبھی کوئی زندہ رہ کربھی دوری کے اندھیروں میں کھوجاتاہے لیکن محبت کااصل رشتہ تو جسم سے نہیں،دل سے ہوتاہیجیسے ایک نادیدہ ڈور ایک دل کودوسرے دل سے باندھے رکھتی ہے،اوریہی ڈورمحبت کووقت،فاصلے  اورموت کے بعدبھی زندہ رکھتی ہے۔یہی لمحہ فراق کالمحہ ہے اورفراق ہی انسان کی روح کاسب سے گہرازخم ہے۔محبت کاسب سے سخت امتحان موت نہیں بلکہ جدائی ہے۔موت میں تویقین ہوتاہے،موت میں ایک قطعیت ہوتی ہے،مگرجدائی میں انتظار،تجسس،اور امیدکا عذاب شامل ہوتاہے۔امیداوراضطراب کانہ ختم ہونے والاسلسلہ شامل ہوتاہے۔کبھی کوئی خاک میں اترکرجداہوتاہیاورکوئی زندہ رہ کرفاصلے کی دھندمیں گم ہوجاتاہے لیکن محبت جسم کی محتاج نہیں،یہ دل سے دل تک بندھااک محبت بھرارشتہ جووقت،فاصلہ اورموت کے بعدبھی قائم رہتی ہے۔
قرآن ہمیں بتاتاہے کہ جدائی کوئی نئی بات نہیں،یہ انبیاکابھی امتحان رہی ہے۔حضرت یعقوب اپنے لختِ جگرحضرت یوسف کی جدائی میں چالیس برس تک اشک باررہے،یہاں تک کہ غم کی شدت سے آنکھوں کی بینائی بھی جاتی رہی: اوریعقوب نے ان سے منہ پھیرلیااورکہاہائے افسوس یوسف پراورغم کے سبب ان کی آنکھیں سفیدہوگئیں،مگروہ ضبط کیے ہوئے تھے۔(یوسف:84)
حضورنبی کریم ﷺنے مکہ سے جدائی کاکرب سہا،وہ شہرجہاں بچپن کی یادیں تھیں،حضرت خدیجہ کی رفاقت تھی،اورابوطالب کی کی شفقت،مگررسولِ اکرم ﷺنے مکہ مکرمہ سے ہجرت کے وقت جس دردکااظہارفرمایا،وہ محض ایک شہرسے جدائی نہ تھی بلکہ یادوں،نسبتوں اورروحانی تعلق سے بچھڑنے کاکرب تھا: اے مکہ!تومجھے کتنامحبوب ہے،اگرمیری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی،تومیں تیرے سواکہیں اورسکونت اختیارنہ کرتا۔یہ الفاظ محض شہرسے محبت نہیں،بلکہ یادوں،نسبتوں اورروحانی وابستگی کا اظہارتھے۔(صحیح ابن حبان)
یہ الفاظ انسانی زندگی کے ہرلمحے کیلئے سبق ہیں،جدائی اورمحرومی کے باوجود،وصال کی امیداورطلب ہمیشہ موجود رہتی ہے۔اسی طرح حضرت موسی کی والدہ کااپنے جگرکے ٹکڑے شیرخواربچے کوٹوکری میں رکھ کردریاکے سپردکرناصبراورتوکل کی وہ مثال ہے جس پرقرآن خودشاہدہے:ہم نے موسیٰ کی ماں کووحی کی کہ اسے دودھ پلا،پھرجب خوف ہوتواسے دریا میں ڈال دینا،نہ ڈرنانہ غم کرنا۔ ہم اس کوتمہارے پاس واپس پہنچادیں گے اور(پھر)اسے پیغمبربنادیں گے۔(القصص:7)
(جاری ہے)