فیض حمید نے صحیح کارکردگی دکھائی ہوتی تو یہ دن نہ دیکھتے، ان کی وجہ سے تحریک انصاف کو فائدہ نہیں ہو
اسلام آباد (آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شیرافضل مروت نے کہا ہے کہ جنرل (ر) فیض کو اپنے اعمال کا حساب خود دینا پڑے گا ، حکومت پی ٹی آئی کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر بات چیت میں مصروف ہے، فیض قیام پاکستان کے بعد سب کو ملتا رہا ، وہ ازلی فیض ہے جس سے سب لوگ مستفید ہوئے ، اور فیض باقی رہے گا، چاہے وہ فیض حمید ہو یا اے بی سی۔ ایک انٹرویو میں شیر افضل مروت نے کہا کہ پی پی رہنما شیری رحمن نے کہا کہ آپ فیضیاب نہیں رہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ ہمارا فیضیاب ہونے کا وقت اب ختم ہو گیا اور ان کا وقت ابھی چل رہا ہے۔پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جنرل(ر)فیض حمید کو پی ٹی آئی سے جوڑا جا رہا ہے، انہیں اپنے اعمال کا خود حساب دینا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایس پی آر نے چارج شیٹ شیئر نہیں کی، اس میں مخصوص الزامات ہیں، چارج شیٹ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ مشتبہ شخص کو بتاتے ہیں کہ آپ پر اس جرم کا الزام لگایا گیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز دراصل ایک سیاسی بیان لگتا ہے، اس سے کوئی بھی نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے۔انہوںنے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ فیض حمید کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی نے مذاکرات شروع کر دیئے ہیں، ڈی جی آئی ایس آئی خود کوئی ڈیل نہیں کرسکتا، تمام ڈیل نمبرون سے ہوتی ہیں، تو سارے معاملے میں باجوہ کیوں غائب ہے؟۔