وزیراعظم شہباز شریف نے "نشان پاکستان" ایوارڈ سے دستبرداری اختیار کر دی

وزیراعظم شہباز شریف نے

ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف نے "نشان پاکستان" ایوارڈ سے اپنا نام واپس لے لیا، صدر زرداری نے سول و عسکری شخصیات کو اعزازات سے نوازا

آج ایوان صدر میں پروقار تقریب کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری نے سول اور عسکری شخصیات کو اعلیٰ اعزازات سے نوازا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا نام بھی "نشان پاکستان" کے لیے تجویز کیا گیا تھا، تاہم وزیراعظم نے خود اپنی نامزدگی واپس لے لی اور باقی تمام ناموں کی منظوری دے دی۔اس موقع پر سینئر صحافی اور ایڈیٹر انویسٹی گیشن دی نیوز انصار عباسی نے بھی "معرکہ حق ایوارڈ" لینے سے معذرت کر دی۔ انصار عباسی نے سیکرٹری کابینہ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس ایوارڈ کی حق دار ہے، اور ان کا جو کام ہوا وہ ان کا فرض تھا، نہ کہ کوئی غیر معمولی کارنامہ۔تقریب میں صدر مملکت کی جانب سے وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اعظم کی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف، اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کو نشان امتیاز سے نوازا گیا۔

اس کے علاوہ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر داخلہ محسن نقوی، سابق وزراء احسن اقبال، شیری رحمان، فیصل سبزواری، مصدق ملک اور حنا ربانی کھر کو بھی سول اعزازات سے نوازا گیا۔ طارق فاطمی اور خرم دستگیر خان کو اعلیٰ سول ایوارڈز ملے۔عسکری شعبے میں صدر پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف معرکہ حق میں مسلح افواج کی قیادت اور بہترین جنگی حکمت عملی پر فیلڈ مارشل اور آرمی چیف عاصم منیر کو ہلال جرات سے نوازا گیا جبکہ ایئر چیف مارشل ظہیر بابر احمد سدھو کو بھی ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔تقریب کے دوران سول اور عسکری شعبے کی نمایاں شخصیات کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازات دیے گئے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے ایوارڈ سے دستبردار ہونے کے فیصلے نے تقریب کو خاص طور پر نمایاں کر دیا۔