لاہور کی اینٹی کرپشن عدالت میں رمضان شوگر ملز ریفرنس پر سماعت ہوئی، جس کی صدارت جج سردار محمد اقبال ڈوگر نے کی۔ سماعت کے دوران اہم نکات سامنے آئے:
سماعت کی تفصیلات
حمزہ شہباز کی غیر حاضری:
حمزہ شہباز عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔وکلا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ بیٹی کے طبی معائنے کے سلسلے میں ملک سے باہر ہیں۔عدالت نے حمزہ شہباز کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی۔
شہباز شریف کی غیر حاضری:
وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ان کے پلیڈر انوار حسین عدالت میں پیش ہوئے۔شہباز شریف کو پہلے ہی مستقل حاضری سے استثنیٰ حاصل ہے۔
بریّت کی درخواست:
شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے کیس میں بریت کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا:گندہ نالہ پورے علاقے کے فائدے کے لیے مقامی ایم پی اے کی درخواست پر تعمیر کیا گیا۔رمضان شوگر ملز سرکاری خزانے کو اس نالے کے استعمال کا معاوضہ ادا کرتی ہے۔مقدمے میں کرپشن کے شواہد موجود نہیں ہیں اور سزا کا امکان نہیں ہے۔وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ بریت کی درخواست منظور کی جائے۔
نیب قانون کی تبدیلی:
یہ کیس نئے نیب قانون کے تحت احتساب عدالت سے اینٹی کرپشن کورٹ منتقل کیا گیا تھا۔شہباز شریف پر رمضان شوگر ملز کے فائدے کے لیے سرکاری خزانے سے گندہ نالہ تعمیر کرانے کا الزام ہے۔
آئندہ سماعت کی تاریخ
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔اس تاریخ کو وکلا سے مزید دلائل سنے جائیں گے۔یہ کیس موجودہ سیاسی اور قانونی منظرنامے میں اہمیت رکھتا ہے اور آنے والے فیصلے پر بہت سی نظریں مرکوز ہیں۔