ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات حتمی نتیجے تک اس لیے نہیں پہنچ سکے کیونکہ امریکہ نے نیک نیتی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کے مطابق، امریکا نے مذاکرات کے دوران زیادہ سے زیادہ مطالبات پر اصرار کیا، جس کی وجہ سے مذاکرات آگے بڑھنے سے قاصر رہے۔ پزشکیان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یورپ امریکہ کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر آمادہ کرنے میں تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دھمکیاں، دباؤ اور فوجی کارروائی سے خطے میں صرف امریکہ کے خود ساختہ مسائل بڑھیں گے، اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری ہی سب سے اہم اور ترجیحی راستہ ہے۔یاد رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، جس میں دونوں فریقوں کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک بات چیت جاری رہی، مگر کسی نتیجے یا معاہدے پر پہنچے بغیر یہ مذاکرات ختم ہو گئے۔