ایرانی قانون ساز اور پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ تہران نے یورینیئم کے افزودہ مواد کو کم سطح پر لانے کے لیے خیر سگالہ کے طور پر 450 کلو گرام افزودہ یورینیئم کو کم درجے تک لانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
اس اقدام کا مقصد ممکنہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا اور عالمی برادری کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا تھا۔ تاہم، انہوں نے بتایا کہ امریکا نے اس معاہدے سے پیچھے ہٹتے ہوئے اس کو ختم کر دیا، جس سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا۔نیکزاد نے مزید کہا کہ ایران، امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ایک مشترکہ کنسورشیم تشکیل دینے کا منصوبہ تھا تاکہ یورینیئم کی تطہیر کے عمل کو مربوط اور منظم بنایا جا سکے۔ اس کنسورشیم کے تحت، ایران یورینیئم کی تطہیر کی سرگرمیوں کو بہتر طریقے سے انجام دے سکتا تھا، مگر امریکی حکومت نے اس معاہدے کو ختم کر دیا، جس سے اس منصوبے کی کامیابی مشکل ہو گئی۔انہوں نے اس کے علاوہ یہ بھی بتایا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کے لیے ایک قانونی نظام تشکیل دینے کی تجویز دی تھی، جس میں امریکی کردار شامل تھا، تاکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے سمندری ٹرانسپورٹ کو منظم کیا جا سکے۔
تاہم، ایران کا موقف ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں ہے، کیونکہ ایران کا کہنا ہے کہ یہ علاقے اس کی سرزمین اور علاقائی خودمختاری کے تحت ہیں، اور امریکہ کا کسی بھی قسم کا کردار غیر قانونی اور غیر متوقع ہے۔یہ بیانات اس تناظر میں آئے ہیں کہ حالیہ سفارتی اور فوجی کشمکش کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کی کمی اور مختلف موقف سامنے آ رہے ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے، اور کسی بھی خارجی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔