امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس (Axios) کی رپورٹ پر مبنی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا ایران میں موجود انتہائی افزودہ یورینیئم کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لیے اسپیشل فورسز کے استعمال کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت حاصل نہ ہو۔
امریکا اور اسرائیل کی بات چیت:
امریکا اور اسرائیل نے ایران میں تقریباً 450 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے ممکنہ فوجی کارروائی پر بات چیت کی ہے۔ یہ مواد چند ہفتوں میں ہتھیاروں کے درجے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ممکنہ فوجی کارروائی:
رپورٹ کے مطابق امریکا اور/یا اسرائیل کی فوجی کارروائی میں اسپیشل فورسز ایرانی سرزمین پر داخل ہو کر زیر زمین جوہری تنصیبات تک پہنچ سکتی ہیں۔ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ آپریشن امریکا، اسرائیل یا دونوں کی مشترکہ کارروائی ہوگا۔کارروائی صرف اس وقت ممکن ہوگی جب یقین ہو کہ ایرانی فوج اس میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔
آپریشن کے ممکنہ طریقے:
امریکی حکام دو آپشنز پر غور کر رہے ہیں:یورینیئم کو ایران سے باہر منتقل کرنا۔ماہرین کی مدد سے اسی مقام پر افزودگی کم کرنا۔اس مشن میں اسپیشل فورسز کے ساتھ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ماہرین بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
تیل کے ذخائر پر بھی غور:
امریکی حکام نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ پر قبضے کے امکانات پر بھی بات کی ہے، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔
صدر ٹرمپ کی پالیسی:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا اہم مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔یہ اقدام عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں، اور عالمی توانائی و سکیورٹی مارکیٹ پر اثر ڈال سکتا ہے۔