وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے امریکی کانگریس مینز کے وفد کے ہمراہ کرتار پور راہداری کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سکھ برادری کے ساتھ بیساکھی میلے کی خوشیوں میں شرکت کی۔
وفد میں کانگریس مین تھامس رچرڈ سوازی، کانگریس مین جوناتھن جیکسن، قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر اور امریکی قونصل جنرل کرسٹن کے ہاکنز شامل تھے۔ درشنی ڈیوڑی کے باہر سکھ برادری کی سرکردہ شخصیات نے وزیرِ داخلہ اور امریکی وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں پھول پیش کیے۔محسن نقوی اور امریکی کانگریس مینز نے گوردوارہ صاحب کا دورہ کیا، بابا گرونانک دیو جی سے وابستہ مختلف اشیاء کا مشاہدہ کیا اور دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہیں گوردوارہ صاحب کرتار پور کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔وفد کو سروپا پہنایا گیا اور کرپان پیش کی گئی۔ اس دوران بھارت سے آئے سکھ یاتریوں سے ملاقات کی گئی، جنہوں نے وزیرِ داخلہ اور امریکی وفد کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ بعد ازاں، وزیرِ داخلہ اور امریکی کانگریس مینز نے لنگر ہال میں سکھ برادری کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔
امریکی کانگریس مینز کے وفد نے کرتار پور راہداری اور گوردوارہ صاحب میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کو سراہا اور کہا کہ سکھ برادری کے میلے میں شرکت کرکے انہیں دلی خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے سکھ یاتریوں کے لیے کیے گئے انتظامات کی تعریف کی۔وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ سکھ یاتریوں کے لیے بہترین سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے سکھ یاتریوں کے لیے ویزا کے حصول کو آسان بنایا ہے اور چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ سکھ یاتری پاکستان آئیں اور اپنے مقدس مقامات کی زیارت کریں۔ پاکستان میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔