عدالتی طنز: 'آپ جیسے لوگوں' کی نااہلی سے قاتل بری ہو جاتے ہیں، جسٹس محسن

عدالتی طنز: 'آپ جیسے لوگوں' کی نااہلی سے قاتل بری ہو جاتے ہیں، جسٹس محسن

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے قتل کے مقدمے میں بریت کی درخواست پر سماعت کے دوران تفتیشی افسر کی ناقص کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

 یہ مقدمہ ایک ملزم کی بریت کے حوالے سے تھا، اور جسٹس کیانی نے اس موقع پر شدید تنقید کی۔

تفصیلات: جسٹس محسن اختر کیانی نے تفتیشی افسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے ملزمان بری ہو جاتے ہیں۔" ان کا کہنا تھا کہ جب ملزمان بری ہو جاتے ہیں تو لوگ عدالتوں اور ملک پر لعنتیں بھیجتے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اس ریمارکس کے ذریعے وہ عدالت کے اہم رول کو اجاگر کر رہے تھے کہ تفتیش کی کمی یا غلطی کی صورت میں انصاف کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔وکیل درخواست گزار نے اس دوران یہ انکشاف کیا کہ پولیس نے جس چیز کو ملزم سے برآمد کرنا تھا، وہ حقیقت میں مقتول کے والد سے برآمد کی گئی تھی۔ اس طرح سے، ملزم کی مفاد میں تفتیشی خامیوں کا فائدہ پہنچایا گیا، کیونکہ برآمد ہونے والی چیز مقتول کے والد سے ملی تھی، جو کہ جرم کے اسباب کو مشتبہ بناتا ہے اور تفتیشی عمل کی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے۔

اس معاملے میں تفتیشی افسر کی کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہیں کہ اگر ابتدائی تفتیش اور شواہد صحیح طریقے سے اکٹھے نہ کیے جائیں، تو ملزمان کے بری ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جو کہ عدلیہ کے نظام کی ساکھ پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔اس طرح کی صورتحال میں عدالتوں کی طرف سے ایسے سخت ردعمل اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ انصاف کی فراہمی میں تفتیشی اداروں کا کردار انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔