میانمار: فوج کے فضائی حملے میں 2 اسکول تباہ، 19 طلبہ ہلاک، 22 زخمی

میانمار: فوج کے فضائی حملے میں 2 اسکول تباہ، 19 طلبہ ہلاک، 22 زخمی

میانمار کی مغربی ریاست راکھین میں فوج کے فضائی حملے میں کم از کم 19 طلبہ ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے۔

 زخمیوں میں اکثریت طلبہ کی تھی۔مقامی ذرائع اور آراکان آرمی (AA) کے مطابق یہ حملہ کیاؤ کتاؤ ٹاؤن شپ کے دو نجی ہائی اسکولوں پر ہوا، اور ہلاک شدگان اور زخمی طلبہ کی عمریں 15 سے 21 سال کے درمیان ہیں۔ آراکان آرمی کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ ہلاک شدگان میں زیادہ تر 17 سے 18 سال کے طلبہ شامل ہیں۔انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل ہونے کے باعث آزاد ذرائع سے فوری تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ ہلاک شدگان میں بورڈنگ میں مقیم طلبہ بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں سے 6 کی حالت نازک ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق فوجی طیاروں نے دو 500 پاؤنڈ وزنی بم گرائے، جس سے اسکول کی عمارتیں اور قریبی مکانات تباہ ہو گئے۔

راکھین ریاست میں آراکان آرمی نے گزشتہ سال نومبر سے فوج کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ میانمار میں فروری 2021 میں فوجی اقتدار پر قبضے کے بعد سے اب تک 7,200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور فوج نے حالیہ مہینوں میں فضائی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔راکھین وہی خطہ ہے جہاں 2017 میں فوجی کارروائی کے نتیجے میں تقریباً 7 لاکھ 40 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش ہجرت پر مجبور ہوئے تھے۔