ہم اتنے حقیر کیوں ہوگئے کہ آج اپنے بہن بھائیوں کا دفاع کرنے سے بھی قاصر ہیں: احسن اقبال

ہم اتنے حقیر کیوں ہوگئے کہ آج اپنے بہن بھائیوں کا دفاع کرنے سے بھی قاصر ہیں: احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے لاہور میں نیشنل ویمن سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مغرب اور غزہ کے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

 انہوں نے کہا کہ آج مغربی ممالک کے عوام ایک جگہ متحد ہیں، جبکہ غزہ کے عوام بے بس ہیں، اور ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم اتنے حقیر کیوں ہو گئے ہیں کہ اپنے بہن بھائیوں کے دفاع میں بھی عاجز ہیں۔وزیر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ آج ذکر مصطفیٰ ﷺ میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ ہم نبی کریم ﷺ سے عشق کرتے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ عشق ہمیں رشوت، ملاوٹ، اور معاشرتی کمیابی سے روکنے میں ناکام ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ نبی ﷺ سے محبت کے باوجود ہمارے معاشرتی اور تعلیمی نظام میں کمی نظر آتی ہے۔ ہم قرآن پاک کو کبھی مکمل ترجمے کے ساتھ نہیں پڑھتے، اور اسی وجہ سے نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہم ناکام ہیں۔

وفاقی وزیر نے ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور سڑکوں پر ہلڑ بازی کو اسلامی تعلیمات سے دوری کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس روایت میں دین اور دنیا کو ہم نے ایک ساتھ سمیٹا ہوا تھا، وہ سلسلہ اب ٹوٹ چکا ہے۔احسن اقبال نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید ذہن مذہب سے جڑ نہیں رہا اور مغربی اثرات زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کی سیرت کو ہم نے گرین اکنامی یا معاشرتی ترقی کے زاویے سے پیش نہیں کیا، اور کاروباری اخلاقیات پر بھی عمل نہیں ہوتا۔وزیر نے کہا کہ نبی ﷺ نے ہر میدان، چاہے جنگ ہو یا تعلیم، خواتین کی شمولیت کو تسلیم کیا، اور ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں ان تعلیمات کو عملی طور پر اپنانا چاہیے۔