یہ کیس پی ٹی آئی قیادت کے خلاف کریک ڈاؤن اور جبری گمشدگیوں کے حوالے سے اہم قانونی اور سیاسی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
سپریم کورٹ میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے متعلق سماعت کے دوران ججز نے بنیادی سوالات اٹھائے کہ کیوں عدلیہ بازیاب تو کرا سکتی ہے لیکن اس طرح کے واقعات کو روک نہیں پا رہی۔جسٹس جمال مندوخیل نے پارلیمنٹ کو اس مسئلے کے حل کے لیے بنیادی فورم قرار دیا، مگر پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے مؤقف اختیار کیا کہ پارلیمنٹ میں اس معاملے کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں۔ اس پر عدالت نے کہا کہ پارلیمنٹ کے پاس یہ اختیار ہے اور اسی کو اس معاملے پر کارروائی کرنی چاہیے۔کیس کی مزید پیچیدگی اس وقت سامنے آئی جب عدالت میں انتظار پنجوتھا کے اغوا اور ڈرامائی بازیابی کا ذکر کیا گیا، اور وکیل نے دعویٰ کیا کہ وہ خوفزدہ ہیں، کسی سے ملاقات نہیں کر سکتے تھے اور مسلسل ذہنی دباؤ میں تھے۔ اس پر عدالت نے سوال کیا کہ کیا انتظار پنجوتھا نے پولیس کو بیان ریکارڈ کروایا؟ وکیل نے جواب دیا کہ انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
دوران سماعت سلمان اکرم راجا نے مثال دی کہ بھارت میں گجرات فسادات کے دوران سپریم کورٹ نے ریاست کے خلاف قدم اٹھایا تھا۔ جس پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ہر دور میں ایک سیاسی جماعت زیرِ عتاب اور دوسری بینیفشری بنتی ہے۔ اس پر وکیل نے کہا کہ یہ فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے کہ کون زیرِ عتاب آئے گا اور کون نہیں۔عدالت میں دفعہ 144 کے نفاذ پر بھی بحث ہوئی، جب وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ہوٹل کانفرنس کو دفعہ 144 کے ذریعے روک دیا گیا، جس پر جسٹس مندوخیل نے پوچھا کہ کیا اسے چیلنج کیا گیا؟ وکیل نے جواب دیا کہ چیلنج کرنے کا اب فائدہ نہیں کیونکہ ایونٹ گزر چکا ہے اور ایسے کیسز سالوں چلتے رہتے ہیں۔سماعت کے اختتام پر عدالت نے مزید دستاویزات جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے کیس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔