سیلابی نقصانات کے تخمینے کے لیے مردم شماری اور زراعت شماری کا ڈیٹا استعمال ہوگا

سیلابی نقصانات کے تخمینے کے لیے مردم شماری اور زراعت شماری کا ڈیٹا استعمال ہوگا

پاکستان میں حالیہ سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد نقصانات کا حتمی تخمینہ لگانے کے لیے مردم شماری اور زراعت شماری کا ڈیٹا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نقصانات کا تجزیہ
انفرااسٹرکچر اور کاروباری نقصان جانچنے کے لیے اکنامک سینسز سے مدد لی جائے گی۔زراعت شماری کے ذریعے فصلوں اور مویشیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے گا۔دستیاب ڈیٹا اور جدید سافٹ ویئرز کے ذریعے اضلاع، بلاکس اور گاؤں کی سطح پر نقصانات کا سروے کیا جائے گا۔
جیو ٹیگنگ سے مدد
حکام کے مطابق حالیہ اکنامک سینسز کے دوران ملک بھر کی عمارتوں کو جیو ٹیگ کیا گیا تھا، جس کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ بزنس سینٹرز، اسکول، کالجز، جامعات، مساجد اور دیگر عمارتوں کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔

حکومتی ہدایات
وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے ادارہ شماریات کو ہدایت دی ہے کہ سیلابی نقصانات کے درست تخمینے کے لیے تمام متعلقہ ڈیٹا کو بروئے کار لایا جائے۔