سندھ میں دریاؤں کی طغیانی، کئی اضلاع میں شدید سیلابی صورتِ حال

سندھ میں دریاؤں کی طغیانی، کئی اضلاع میں شدید سیلابی صورتِ حال

پنجاب کے بعد سندھ میں سیلاب زور پکڑنے لگا ہے، دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 37 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا جس سے اونچے درجے کا سیلاب آگیا۔

سکھر اور کوٹری بیراج پر بھی پانی کی آمد بڑھ گئی، جبکہ کوٹ مٹھن، راجن پور اور چاچڑاں شریف کے علاقوں میں پانی کی سطح بلند ہو کر 11.4 فٹ ہو گئی ہے۔ہیڈ پنجند کے سیلابی ریلے کے باعث کوٹ مٹھن اور تحصیل علی پور کے کچے علاقے زیرِ آب آ گئے، مکینوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ کم ہونا شروع ہو گیا ہے، مگر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ دریائے راوی اور ستلج میں بھی سیلاب کم ہو رہا ہے، تاہم درمیانے اور نچلے درجے کے سیلاب جاری ہیں۔

سیلاب سے قبولہ، عارف والا، ترنڈہ محمد پناہ اور احمد پور سیال میں شدید تباہی ہوئی، مکانات اور فصلیں تباہ ہوئیں، مویشی بہہ گئے، اور متاثرین خوراک و چارے کی کمی کا شکار ہیں۔ جام شورو اور بولاخان میں برساتی ریلوں نے زیرِ آب علاقوں میں مزید تباہی مچائی، جبکہ نوشہرو فیروز میں ڈوبتی کشتی سے پانچ افراد کو بچا لیا گیا۔ لاڑکانہ سیہون کے ملحقہ علاقے بھی سیلاب سے متاثر ہیں۔