محمد تسنیم رضا
نریندر مودی کا ایک جملہ – "آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا، جاری ہے" – بظاہر ایک سیاسی فقرہ ہے، مگر درحقیقت یہ ایک ایسے نظریے، رویے اور عمل کا مظہر ہے جو صرف بھارت کے داخلی معاملات تک محدود نہیں بلکہ خطے کے امن، پاکستان کی سالمیت اور عالمی سفارتی توازن پر براہِ راست اثرانداز ہو رہا ہے۔ سیاست میں بعض جملے صرف بیانات نہیں ہوتے، وہ مستقبل کے رخ کی نشاندہی کرتے ہیں، اور یہ جملہ انہی میں سے ایک ہے۔مودی کی سیاست شروع دن سے انتہا پسند مذہبی جذبات، جارحانہ قوم پرستی اور داخلی ناکامیوں کو بیرونی دشمن کے خلاف نفرت میں ڈھالنے کی پالیسی پر استوار رہی ہے۔ ‘‘آپریشن سندور’’ بھی اسی ذہنیت کا تسلسل ہے۔ اس کا اصل ہدف زمینی توسیع، اقلیتوں کی شناخت کا خاتمہ، اور ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ اس بیانیے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ صرف ایک سیاسی منصوبہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی تحریک ہے جس کے پیچھے ایک مخصوص سوچ، مذہبی جذبہ اور اقتدار کو دوام دینے کی تمنا شامل ہے۔
مودی کی یہ پالیسی صرف کشمیر تک محدود نہیں رہی۔ اس کی نظریں اب بلوچستان پر بھی مرکوز ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ محض ایک سرحدی یا سفارتی معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسی آزمائش ہے جو 1971 کی تلخ یادوں کو تازہ کر دیتی ہے۔ جب مشرقی پاکستان میں سیاسی محرومی کو بھارت نے عسکری مداخلت سے ایک قومی سانحے میں بدلا، تو تاریخ نے ہمیں ایک سبق دیا تھا کہ دشمن کبھی بھی صرف سرحد پار سے حملہ نہیں کرتا بلکہ داخلی کمزوریوں سے راستہ تلاش کرتا ہے۔
بلوچستان میں بھارت کی سرگرمیاں، تخریب کار عناصر کو مالی اور فکری مدد، اور عالمی میڈیا میں پاکستان کے خلاف مخصوص بیانیے کی ترویج، یہ سب وہ چالیں ہیں جو ماضی میں بنگلہ دیش کے قیام سے قبل دیکھی جا چکی ہیں۔ اگرچہ پاکستان آج 1971 والا ملک نہیں رہا – ریاست مضبوط، افواج منظم اور سفارتی فہم کہیں زیادہ سنجیدہ ہے – مگر دشمن کا طریقہ کار بھی پہلے سے زیادہ چالاک اور پیچیدہ ہو چکا ہے۔
مودی کی عالمی سطح پر جو بدنامی ہوئی ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ امریکہ، یورپی یونین، اقوام متحدہ، حتیٰ کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بھارت کی اقلیت مخالف پالیسیوں، کشمیر میں جبر، اور اظہارِ رائے پر پابندیوں پر تنقید کر چکی ہیں۔ مودی کے خوابوں کا بھارت، جسے وہ وشو گرو بنانے چلے تھے، آج اپنی ہی سرحدوں میں محصور دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں مودی کے لیے بیرونی محاذ پر "کامیابی" حاصل کرنا ایک سیاسی ضرورت بن چکی ہے۔ اور شاید یہی وہ نفسیاتی دباؤ ہے جو اسے بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی حمایت پر مجبور کرتا ہے۔
یہ بات اب محض الزام نہیں رہی، بلکہ پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے ٹھوس ثبوت رکھے ہیں کہ بھارت بلوچستان میں بی ایل اے جیسے گروہوں کو براہِ راست فنڈ، ہتھیار، اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ اسی "آپریشن سندور" کا حصہ لگتا ہے، جس کے تحت مودی نہ صرف پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتا ہے بلکہ اسے داخلی خلفشار میں مبتلا کر کے ایک اور 1971 کا منظرنامہ دہرانے کا خواب دیکھ رہا ہے۔
اسی پس منظر میں اگر ہم حالیہ بین الاقوامی اقتصادی تبدیلیوں کا جائزہ لیں تو ایک اور دلچسپ رْخ سامنے آتا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کی برآمدات پر عائد ٹیرف میں کمی کی ہے – یہ کوئی سادہ تجارتی رعایت نہیں، بلکہ ایک بڑی سفارتی اشارہ ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب بھارت کو روس سے تیل خریدنے پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ مودی سرکار نے امریکی پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے روس سے سستا تیل خریدا، اسے اپنے ریفائنری سسٹم میں پروسیس کیا، اور پھر اسے "میڈ ان انڈیا" کے لیبل کے ساتھ عالمی منڈی میں بیچا۔
ٹرمپ، جو امریکہ کو بزنس ماڈل پر چلاتے ہیں، اس پالیسی سے شدید ناراض دکھائی دیے۔ ان کا خیال تھا کہ روس پر پابندیوں کے بعد دیگر ممالک امریکہ کی توانائی کی منڈی کا رخ کریں گے۔ لیکن بھارت نے سستے داموں روسی تیل لے کر اسے دوبارہ برآمد کیا، اور اس طرح امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ اب بھارت پر تجارتی سختیاں عائد ہو رہی ہیں جبکہ پاکستان کو اقتصادی ریلیف مل رہی ہے۔ یہ بظاہر ایک خاموش سفارتی پیغام ہے: جو ملک عالمی اصولوں کا احترام کرے گا، اسے فائدہ ہوگا۔
لیکن جنگ صرف سفارتی نہیں، بلکہ اب معیشت کا میدان بھی ایک جنگ کا منظر پیش کرتا ہے۔ بھارت کی یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو عالمی سرمایہ کاروں کی نظر میں غیر مستحکم، غیر محفوظ اور غیر ذمہ دار ریاست بنا کر پیش کیا جائے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) میں پاکستان کے خلاف مسلسل مہم، عالمی تجارتی اداروں میں منفی رپورٹیں، اور بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کی منفی تصویر — یہ سب بھارت کے "نرم حملے" ہیں۔ یہ وہ ہتھیار ہیں جو نظر نہیں آتے مگر کاری ضرب لگاتے ہیں۔
اسی طرح میڈیا اور بیانیہ سازی کی جنگ بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔ بھارت نے سوشل میڈیا پر فیک نیوز نیٹ ورکس، جعلی اکاؤنٹس، اور پراپیگنڈا ویڈیوز کے ذریعے ایک مکمل رائے عامہ کی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ بلوچستان اور کشمیر میں مظالم کے برعکس بیانیے کو الٹا کر پیش کرنا، علیحدگی پسندوں کو "مظلوم قوم پرست" بنا کر دنیا کے سامنے رکھنا، اور پاکستان کو مسلسل ایک "دہشت گرد ریاست" کے طور پر ظاہر کرنا — یہ سب وہ حربے ہیں جن کے ذریعے مودی اپنی عالمی ناکامیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان ان حالات میں کیا کر رہا ہے؟ کیا ہم صرف جوابی بیانات پر اکتفا کر رہے ہیں؟ یا پھر کوئی جامع اور دیرپا حکمتِ عملی اپنا رہے ہیں؟ ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ دشمن صرف ہتھیاروں سے نہیں، الفاظ، اعداد، خبروں اور بیانیے سے بھی حملہ آور ہے۔ ہمیں اپنی میڈیا، سفارت، معیشت اور قومی یکجہتی کو ایک ہم آہنگ پالیسی کے تحت مضبوط بنانا ہوگا۔ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے، مقامی لوگوں کی شمولیت، تعلیم، روزگار، اور احترام — یہی اصل ہتھیار ہیں جو بیرونی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان اب وہ ملک نہیں رہا جسے ماضی میں عالمی سطح پر تنہا سمجھا جاتا تھا۔ اب ہم نے نہ صرف اپنی معاشی پالیسیوں کو بہتر بنایا ہے بلکہ سفارتی محاذ پر بھی متوازن حکمت عملی اپنائی ہے۔ امریکہ اور یورپ کے ساتھ تعلقات میں نرمی، چین کے ساتھ ترقیاتی اشتراک، خلیجی ممالک میں سرمایہ کاری کے مواقع — یہ سب ایک نئے پاکستان کا عکس ہیں۔ ہمیں صرف انہیں پائیدار اور مربوط بنانا ہے۔
مودی کا "آپریشن سندور" دراصل اس کا اندرونی خواب ہے۔ ایک ایسا خواب جس میں وہ خود کو نیا سردارِ ہند، نیا چانکیہ، اور نیا اشوک سمجھتا ہے۔ لیکن دنیا کے بدلتے حالات، عالمی سیاست کا نیا بیانیہ، اور پاکستان کی مسلسل بہتری — یہ سب اس کے خواب کی راہ میں کانٹے ہیں۔ ہمیں یہ کانٹے اور بھی گہرے کرنے ہیں۔ لیکن نفرت سے نہیں، عقل، حکمت اور فہم سے۔
اگر ہم آج اپنی صفوں میں اتحاد، اداروں میں شفافیت، میڈیا میں حقیقت،سیاست معیشت میں استحکام اور سفارت میں سنجیدگی لے آئیں، تو دشمن کے ہر منصوبے کو شکست دی جا سکتی ہے۔ تب نہ صرف آپریشن سندور ناکام ہوگا، بلکہ دنیا یہ تسلیم کرے گی کہ پاکستان ایک باشعور، بیدار اور متوازن ریاست ہے۔ اور یہ پہچان، کسی عالمی انعام سے کم نہیں