اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان اور اراکین کو اہم خط لکھتے ہوئے پٹرولیم لیوی میں کمی، عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے اور خیبرپختونخوا میں آئینی و جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اپنے خط میں مطالبہ کیا کہ پارلیمان پٹرولیم لیوی مقرر کرنے کا اختیار حکومت سے واپس لینے کے لیے قانون سازی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے لیوی کی حد مقرر کرنے کا اختیار حکومت کو دے کر اپنے آئینی کردار کو کمزور کیا ہے، اس لیے اس معاملے پر پارلیمانی اختیارات بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عوام کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق پٹرولیم لیوی کے خاتمے یا اس میں کمی، مہنگائی پر قابو پانے اور عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے خط میں نشاندہی کی کہ پٹرولیم لیوی کے اثرات صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے خوراک، زراعت، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے بھی متاثر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ اور خدمات کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے تجویز دی کہ غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کمی اور مالیاتی بے ضابطگیوں کے خاتمے کے ذریعے پٹرولیم لیوی میں کمی سے پیدا ہونے والے مالیاتی فرق کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اخراجات کو مؤثر بنانے اور مالیاتی نظم و ضبط بہتر کرنے سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے وسائل فراہم کیے جاسکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی صورت حال پر تشویش
امیر جماعت اسلامی نے خیبرپختونخوا کی صورت حال پر بھی توجہ دلاتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ صوبے میں آئینی اور جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پہلے ہی غیر یقینی صورت حال موجود ہے اور گورنر راج یا 12 اضلاع میں ہنگامی صورت حال کے نفاذ سے سیاسی بحران مزید گہرا ہوسکتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ صوبے کے مسائل آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے مطابق حل کیے جائیں اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو سیاسی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے پارلیمانی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے، پٹرولیم لیوی میں کمی اور خیبرپختونخوا میں جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کریں۔ان کے مطابق موجودہ معاشی اور سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے عوامی مفادات، آئینی بالادستی اور جمہوری اصولوں کو ترجیح دی جائے۔